(محبت ہوگئ آخر ) از یمنیٰ طلحہٰ قسط نمبر 2 @YUMNA_TALHA_WRITES

“بس بس الف چچا، یہاں روک دیں”، سمیہ نے کہا تو الف چچا نے گھر کے سامنے گاڑی روک دی۔

“مجھے تمہارا پلان ٹھیک نہیں لگ رہا سمیہ!” لائبہ نے تھکے ہوئے انداز میں کہا۔

“بھروسہ رکھو، چلو اب”، سمیہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔

دھوپ بہت تیز تھی، دونوں کی آنکھیں چندھیانے لگیں۔ لائبہ نے فوراً دوپٹہ سر پر لے لیا تاکہ دھوپ کم لگے۔ سمیہ نے ہاتھ سے ہی دھوپ سے بچنے کی کوشش کی۔

سمیہ کے بال شولڈر کٹ تھے اور وہ ہمیشہ کھلے رکھتی تھی۔ وہ عام طور پر میک اپ کے بغیر باہر نہیں جاتی تھی۔ اس نے جینز اور ڈھیلی شرٹ پہن رکھی تھی۔ اس کا اسٹائل ہمیشہ ویسٹرن ہوتا تھا۔

اس کے برعکس لائبہ مکمل سادہ اور دیسی لباس پہنتی تھی اور گھر سے نکلتے وقت دوپٹہ لازمی لیتی تھی۔

سمیہ نے بیل بجائی تو دروازہ فوراً کھل گیا۔ ایک نفیس سی خاتون سامنے تھیں۔

“السلام علیکم”، سمیہ نے مسکرا کر سلام کیا اور انہیں گلے لگا لیا۔ خاتون نے بھی جواب دیا۔

“واہ! کیا سرپرائز ہے، سمیہ تم کیسی ہو؟”

“میں ٹھیک ہوں آنٹی، اویس کہاں ہے؟”، سمیہ نے فوراً پوچھا۔ لائبہ پیچھے کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔

“اندر آ جاؤ”، خاتون نے کہا۔

“نہیں آنٹی، ہمیں دیر ہو رہی ہے، بس اویس کو بلا دیں”، سمیہ نے کہا۔

خاتون نے زیادہ اصرار نہیں کیا اور اندر چلی گئیں۔

تھوڑی دیر بعد اویس آ گیا۔

“ہائے سمیہ، جو تم نے کہا تھا میں نے کر دیا ہے، اندر آ جاؤ اور اپنی دوست کو بھی لے آؤ”، اویس نے کہا۔

“نہیں اویس، وقت کم ہے، بس نوٹس دے دو، ہمیں تیاری کرنی ہے”، سمیہ نے جلدی سے کہا۔

اویس اندر گیا اور تھوڑی دیر بعد نوٹس لے آیا۔

“گڈ لک”، اس نے کہا۔

“تھینکس”، سمیہ نے نوٹس لیے اور لائبہ کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔

وہ دونوں لائبہ کے گھر پہنچ گئیں۔ کمرہ اے سی سے ٹھنڈا تھا۔ دونوں نوٹس پڑھنے بیٹھ گئیں۔

“ہم جیسے لوگ دو دن میں ٹیسٹ کی تیاری کر رہے ہیں، باقی سب پہلے سے محنت کر رہے ہیں”، لائبہ نے پریشان ہو کر کہا۔

“فکر نہ کرو، سوال زیادہ نہیں بدلتے، بس طریقہ بدل دیتے ہیں”، سمیہ نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

اسی دوران سکینہ بھی آ گئی۔

“واہ! اے سی چل رہا ہے، مجھے پہلے بلا لیتیں”، وہ آتے ہی بستر پر لیٹ گئی۔

“ہمیں پتا ہوتا تم گھر ہو تو بلا لیتے”، سمیہ نے کہا۔

“پڑھائی ہو رہی ہے؟”، سکینہ نے پوچھا۔

“ہاں”، سمیہ نے جواب دیا۔

پھر سکینہ نے کہا: “امی تمہاری شادی کی بات کر رہی تھیں!”

یہ سن کر لائبہ اور سمیہ دونوں خاموش ہو گئیں…