“کون سا میرے تمہاری طرح لمبے چوڑے پلینز ہیں۔ آگے پڑھائی اپنے شوق سے کرنا چاہتی ہوں اب ایسے میں کوئی لائق رشتہ آجائے تو نو پرابلم”، لائبہ نے جیسے ناک پر سے مکھی اڑائی تھی۔ سکینہ خاموش تماشائی بن کر دونوں کو سننے اور چپس کے ساتھ انصاف کرنے میں لگی تھی۔
اوکے پر آنٹی کو معلوم ہے نا کہ تمہارے لیے جو لڑکا پسند کیا جائے گا اسے پہلے میرے ٹیسٹ پر سے پاس ہونا ہے؟”، سمیہ نے کہا۔
ہاں ہاں وہ تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں تم ہی فائینل کرنا پھر ہی شادی کروں گی”، لائبہ نے ہنس کر کہا۔”
“رؤف صاحب آج کل اچھا رشتہ ملنا آسان نہیں تین بیٹیاں ہیں آپکی”، نگہت نے تفکر آمیز انداز میں کہا۔
“تو فخر ہیں میرا۔۔ کون سا بوجھ ہیں”، انہوں نے بڑی شان سے جواب دیا۔
“لوگ یہ نہیں دیکھتے ۔۔۔ یہ ہی عمریں ہوتی ہیں بیاہ کی پھر نکل جائے تو کوئی پوچھتا نہیں۔ آپ کو لائبہ کی آگے کی پڑھائی کی فکر ہے، یہ نہیں کہ اسکا گھر بسانا بھی ہمارا فریضہ ہے”،
“آگے تعلیم دلانا بھی ہمارا فریضہ ہے نگہت بیگم۔ میں شادی کے خلاف نہیں لیکن میری بیٹی کو شوق ہے کہ آگے پڑھے۔ پھر قریبی کوئ اچھا رشتہ تو نہیں ہے اب ایسے میں اسے گھر ہی بٹھا دوں کہ جب تک کوئی آکر دروازہ نہ کھٹ کھٹائے وہ بند رہے گھر میں؟ یہ میرے اصول کے خلاف ہے”، رؤف نے برہمی سے کہا۔
“اگر آگے پڑھے گی تو آنے والوں کے بھی قدم رک جائیں گے۔ سب کو لگے گا ہم ابھی بچی کا بیاہ نہیں کرنا چاہتے نہ ہی اسے گھر گرہستی سکھاتے ہیں”، نگہت نے کہا۔
“دیکھو نگہت بیگم لائبہ لائق، سلیقہ مند اور گھریلو ہے۔۔۔ وہ کل کیا آج بیاہ دی جائے تو بھی مجھے یقین ہوگا کہ آرام سے گھر سنبھال لیگی۔ سب میرے مزاج کو جانتے ہیں۔ جب اچھا رشتہ آنا ہوگا تو آ جائے گا۔ تم خواہ مخواہ پریشان ہوتی ہو اور لائبہ کو بھی پریشان کرتی ہو۔ اب اسے شادی پر مت اکسانا۔ مجھے اچھا نہیں لگے گا۔ وہ نہ ہی میرا بھرم توڑے گی نہ ہی تمہاری بات سے مکر جائے گی۔ میں کسی کے آنے تک اسے گھر میں قید نہیں رکھ سکتا۔ اس کی ذندگی ہے وہ اپنا شوق پورا کرے ہاں اگر تمہارے پاس کوئی اچھا رشتہ ہو تو بتانا اس وقت میں تمہاری بات بھی سنوں گا لیکن بلا وجہ گھر پر بٹھانا اور بچی کی پڑھائی روک دینا یہ سمجھ سے باہر ہے”، وہ قطعی انداز میں کہہ گئے۔ نگہت خاموش بیٹھی انہیں دیکھتی رہیں ۔لائبہ کی سگی ماں تھیں کسی قسم کی خار نہیں تھی بس ایک فطری فکر تھی اور وہ اپنی جگہ حق پر تھیں۔ لیکن رؤف صاحب آزاد خیال اور وسیع سوچ کے مالک تھے۔ جہاں بیٹیوں کی ولادت پر نگہت کی فکر میں اضافہ ہوتا چلا گیا وہیں رؤف خوشی سے سینا تان کھڑے تھے۔ وہ مستقبل سے گھبراتے نہیں تھے اور بچیوں کو جینے کا پورا حق دینا چاہتے تھے۔ یہ روز مرہ کا موضوع ان کے گھر میں چھیڑا جاتا تھا۔
“ناشتہ تو ٹھیک سے کرلو”، نگہت نے ڈپٹ کر کہا لیکن لائبہ نے نہ سنی اور فٹافٹ دودھ کا گلاس مکمل کیا۔
“بس پیٹ بھر گیا میرا۔ ٹینشن سے الٹی نہ ہو جائے مجھے”، لائبہ نے خالی گلاس میز پر رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“بھوک سے بے ہوش ہی نہ ہو جاؤ یہ کیسا طریقہ ہے آپ کچھ بولیں گے نہیں”، نگہت نے نالاں ہوکر رؤف سے کہا۔
“ٹھیک تو کہہ رہی ہیں تمہاری امی ٹھیک سے کھاؤ اچھا یہ لو”، انہوں نے فرائے انڈے کو ڈبل روٹی میں رکھ کر سینڈ وچ بنا کر اسے دیا تھا۔ لائبہ نے عجیب سی شکل بنائی پر رؤف نے رسانیت سے ہاتھ میں تھما دیا۔
“بیٹھ کر کھالو لائبہ”، نگہت نے تاکید کی اور کہتے کے ساتھ ہی ایک دم ہارن بجا تھا۔
“ٹائم نہیں ماما دعا کیجیے گا آپ لوگ پلیز پتا نہیں میں کیسا ٹیسٹ دوں گی چلیں اللّٰلہ حافظ!”، اس نے ایک ہاتھ میں سینڈ وچ پکڑا اور دوسرے سے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی بیگ سنبھالتی باہر نکلی۔ سمیہ گاڑی ایک طرف پارک کی ہوئی اسی کا انتظار کر رہی تھی۔
“اللّٰلہ کامیاب کرے”، نگہت نے کہا۔
“دل سے کہہ رہی ہیں؟” سکینہ نے چھیڑا تو نگہت نے بھویں بھیج کر اسے دیکھا وہ دانت تلے زبان دبا گئ اور رؤف کا قہقہہ نکل گیا۔
ٹیسٹ کے دوران بھی لائبہ کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں، سمیہ البتہ ریلیکس ہو کر امتحان دے رہی تھی۔ ٹیسٹ کے بعد دونوں نے ایک دوسرے سے سوالات پر تبصرہ کرنا شروع کردیا اور لائبہ کا ٹینشن سے برا حال ہونے لگا۔ وہ ایسی ہی تھی نرم دل اور حساس سی۔
کچھ دنوں میں ہی رزلٹ نکلا تو لائبہ سمیہ کے ساتھ یونیورسٹی چلی گئ تھی۔ نگہت کچن میں مصروف تھیں جب انکا فون بجا۔ وہ فون پاس رکھے انتظار ہی کر رہی تھیں۔ لائبہ کی کال پر انہوں نے فٹا فٹ فون کان سے لگایا۔