کون کہتا ہے یاری برباد کرتی ہے
کوئی نبھانے والا ہو تو دنیا یاد کرتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ایکس کیوز می؟”،
وہ دونوں پیچھے پلٹیں۔ مخاطب ایک خوبرو نوجوان تھا جس کی نظر صرف لائبہ پر مرکوز تھی۔
“آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔”، نوجوان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی لائبہ الجھی پر سمیہ سر تا پیر اسے بغور دیکھ رہی تھی۔
“ج جی؟”، لائبہ کی دھیمی آواز ابھری۔
“کئ دن سے دیکھ رہا ہوں آپ کو۔ یہیں سے گزرنا ہوتا ہے نا؟ آپ اندازہ نہیں کر سکتیں کہ آپ نے میرے دل کا کیا حال کر دیا ہے۔”، وہ کہہ رہا تھا اور لائبہ کی نرگسی آنکھیں مزید وا ہوئیں جبکہ سمیہ کے وجیہہ ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں۔
“دیکھیے آپ مجھے نہیں جانتیں لیکن میں آپ کو اچھے سے جان گیا ہوں۔ وہ وِیمن کالج میں پڑھتیں ہیں نا آپ اس گلی سے پہلے۔ روز آپ کو دیکھتا ہوں آتے جاتے۔ اب صبر مزید ہؤا نہیں تو چلا آیا۔۔ دیکھیں آپ کو شاید عجیب لگے لیکن مجھے آپ سے محبت ہوگئ ہے اور میں آپ سے شادی۔۔۔”،
“واٹ دے!!”، وہ کہہ رہا تھا کہ سمیہ پھٹ پڑی۔
“اوہ مسٹر یہ کیا چھچھور پن ہے؟”، سمیہ کا غصہ دیدنی تھا۔ لائبہ ڈر سے سمیہ کے عقب میں دبک کر کھڑی ہوگئ اور سمیہ چٹان بن کر سامنے آئی۔ لائبہ تھی بھی اسے دو انچ چھوٹی پھر سمیہ کے شولڈر کٹ بلو ڈرائڈ بالوں کے پیچھے آرام سے چھپ گئ۔ اسی پل اسکے پسینے تک چھوٹ چکے تھے۔ آنکھوں میں ڈر سے آنسو نمودار ہو رہے تھے۔ وہ سمیہ کو حفاظتی شیلڈ بنا کر اسکے پیچھے ہی رہی تھی۔
“آپ میری بات تو سنیں مجھے ان سے بات تو کرنے دیں۔۔۔ میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”،
“لگتا ہے بات ابھی بھی سمجھ نہیں آئی تمہیں!!! انجان لڑکیوں کو سڑک پر چھیڑتے ہو۔ گھر میں ماں بہن نہیں تمہارے۔۔۔ سیدھے رستہ ناپو ورنہ ایسا چلاؤں گی سب کے سب جمع ہوں گے اور تمہارے اس خوبصورت سے چہرے کو مار مار کر سارا نقشہ ٹیڑا کر دینگے!”، تنبیہہ انداز میں تیز تراڑ آواز۔۔ نوجوان کی گلٹی ابھری۔
“ارے آپ تو سیریس ہوگئیں میں تو ان سے بات کرنا چاہ رہا ہوں۔”، لائبہ نے سمیہ کے کاندھے سے اسے پھر دیکھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔ لب ڈر سے کپ کپا رہے تھے۔ وہ پیچھے کھڑی رہی اور اب کی بار سمیہ کے بازو پکڑ لیے۔
“ایسے نہیں مانو گے تم ابھی شور مچا۔۔”،
“اوہ اوہ اوہ ہیلو ہیلو!!! ” نوجوان نے دونوں ہاتھوں سے سمیہ کو روکا اور ایک دم ہنس پڑا۔ سمیہ چیختے چیختے رکی اور اسکی ہنسی سے لائبہ نے بھی اسکی طرف دیکھا۔
“ارے یار سوری سوری سوری سوری۔”، نوجوان چلتا ہؤا اسکے عقب میں کھڑی اس ڈری سہمی لڑکی کے پاس آیا۔
“ریلی سوری وہ وہاں دیکھیں ادھر۔”، اس نے جس سمت اشارہ کیا تھا وہیں دونوں لڑکیوں نے دیکھا۔ کچھ لڑکے لڑکیوں کا گرپ موجود تھا اور سب کے سب انکی جانب ہی دیکھ رہے تھے۔
نوجوان نے سیٹی بجا کر ان کو آگے بلایا تو ان کے ہی گرپ میں موجود ایک لڑکی بھاگتی ہوئی آئی۔
“اس سے پہلے آپ چِلّا کر مجھے پٹوائیں میں خود ہی بتا دیتا ہوں جو کچھ میں نے کیا سب مزاق تھا۔ میں تو آپ کو جانتا تک نہیں۔”، اس نے لائبہ کی جانب دیکھا جس کے آنسو تو رک چکے تھے پر نم آنکھیں اور گیلا چہرا صاف واضح تھا۔
“ہم ٹرتھ اینڈ ڈیر کھیل رہے تھے۔ میں نے ڈیر لیا تھا اور میرا چیلنج یہ ہی تھا کہ کوئی بھی مخالف صنف جو اس گلی میں داخل ہو اسے جاکر پروپوز کروں۔ اب اتفاق تھا کہ وہ آپ نکلیں۔”، اس نے لائبہ سے کہا۔ وضاحت پر سمیہ کا ابلتا پارا کنٹرول میں آیا۔
“سوری گائیز اٹ واس جسٹ اے جوک!”، اس کے گرپ کی لڑکی نے کہا تو معاملہ سنمبھلا۔ سمیہ کول ڈاؤن ہوئی اور لائبہ کا ہاتھ تھاما جو اس تمام واقعے سے شرمندگی سی محسوس کر رہی تھی۔ اسے کھڑے کھڑے اس نوجوان پر شدید غصہ بھی آیا پر وہ اس وقت اپنے جذبات کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ ڈر سب پر غالب جو تھا۔
“ہمم بچ گئے تم!”، سمیہ نے وارننگ کے انداز میں کہا۔
“اللّٰلہ کا شکر ہے۔”، نوجوان نے سکون کا سانس لیا۔
“ارے آپ تو رونے لگیں۔”، نوجوان نے لائبہ کو کہا تو لائبہ نے نظریں نیچے کیں اور آنسو پونچھے۔
“ریلی سوری صرف مزاق تھا۔”، اس نے مزید وضاحت دی پر سمیہ نے لب وا کیے۔
“اٹس اوکے چلو لائبہ”، وہ لائبہ کا ہاتھ تھام کر اسے وہاں سے لے گئ۔ دوپٹے کے ہالے میں لائبہ کا شفاف چہرا کسی موتی سے کم نا لگ رہا تھا۔ وہ دونوں اس گلی سے نکلتی چلی گئیں۔
“تم تو بال بال بچے سیف! باقی گروپ میمبرز بھگاتے ہوئے آئے اور زور دار ہنسی کا ٹھاٹا ہوا میں گونجا۔
سیف ان کے ساتھ تو جا ملا پر ایک بار پلٹ کر دیکھا جہاں وہ دونوں لڑکیاں نظر سے اوجھل تھیں۔
“لائبہ۔”، سیف نے زیر لب کہا اور گروپ کے ساتھ مستی مزاق میں لگ گیا۔
“اسلام وعلیکم آنٹی!”، سمیہ نے داخل ہوتے ہوئے کہا۔
وعلیکم اسلام سمیہ کیسی ہو بیٹا”، وہ دونوں گھر میں داخل ہوئیں تو نگہت کو سامنے پا کر سمیہ نے سلام میں پہل کی۔
“آل گڈ آنٹی آپکی دعا ہے”،
“پیپر کیسا گیا دونوں کا؟”، نگہت نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا۔
“ایک دم اے ون!”، سمیہ نے خوش ہوکر کہا۔
“لائبہ خاموش کیوں ہو کچھ ہوا ہے؟”، تمام احوال میں لائبہ کو خاموش دیکھ کر نگہت نے پوچھا۔
“کچھ نہیں ماما”، نگہت کو تسلی نہ ہوئی۔ سمیہ سے آنکھ کے اشارے سے پوچھا۔
“ارے آنٹی کچھ نہیں یہ کبھی پیپر دے کر سکون میں رہی ہے!”، سمیہ نے اعتماد سے کہا تاکہ وہ ٹینشن نہ لیں۔
“اتنا مت سوچو لائبہ اچھا کیا ہوگا پیپر انشاء اللّٰلہ۔۔۔ تم دونوں فریش ہو جاؤ۔ سمیہ تمہاری پسند کا آلو قیمہ بنایا ہے”، نگہت نے کہا اور سمیہ کی بانچھیں کھل گئیں۔
“ارے واہ تھینکس آنٹی ہم بس ابھی فریش ہوکر آتے ہیں”، وہ دونوں لائبہ کے کمرے میں آ گئ تھیں۔ لائبہ کا ہنوز ٹینشن سے بسورتی شکل دیکھ کر سمیہ کو اس پر شدید غصہ آیا۔
“میں کہہ رہی ہوں لائبہ جو تم نے جواب لکھا ہے وہ ہی ٹھیک ہوگا پھر بھی سوچے جا رہی ہو اس بارے میں!”، سمیہ نے زچ ہوکر کہا۔
“میں پیپر کو لیکر پریشان نہیں ہوں سمیہ”، لائبہ نے کہا۔
“تو پھر؟”،
“وہ وہاں سڑک پر جو کچھ ہؤا
“لائبہ وہ مزاق تھا۔ خود اس نے کہا تو تھا کہ صرف مزاق کر رہے تھے وہ لوگ”، سمیہ نے بیگ بستر پر اچھالتے ہوئے سمجھایا۔
“تم موقع کی نزاکت کو نہیں سمجھتیں۔ اگر وہاں کوئی ہمارا جاننے والا موجود ہوتا تو کیا سمجھتا”، انجان اندیشوں نے لائبہ کو آن گھیرا۔
“ہوتا بھی تو بھی صرف مزاق تھا لائبہ جسٹ چل!”، سمیہ نے اسے سکون دلانا چاہا۔
“کسی گزرتے شخص کو تو یہ اندازہ نہیں ہوگا نا کہ مخاطب مزاق کر رہا تھا”، سمیہ کو اس کی بات سمجھ نہ آئی۔
“تو بھی لائبہ اگر کسی نے سن بھی لیا تو بھی انکل وسیع سوچ کے مالک ہیں ناٹ کنزرویٹو مجھے سمجھ نہیں آرہا تم اس معمولی سی بات کو لیکر اتنا کیوں پریشان ہو رہی ہو”،
“تم نہیں سمجھو گی۔ میری توہین تھی۔ اس شخص نے صرف مزاق ہی نہیں کیا بلکہ مجھے شرمندہ بھی کیا ہے۔۔۔ پتہ نہیں گزرتے لوگوں میں سے جس نے بھی سنا ہوگا کیا سوچتا ہوگا!”،
“یہ ہی سوچتا ہوگا کہ موصوفہ کا دماغ خراب ہے! کم آن لائبہ اٹس اوکے اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔۔۔ چلو فریش ہو اور اپنی بھوت جیسی شکل جاکر درست کرو آنٹی خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہیں تمہیں دیکھ دیکھ کر!”، سمیہ کے سمجھانے پر بھی ہنوز وہ پریشان تھی لیکن فریش ہونے چلی گئ تھی