“ماما؟”،
“ہاں لائبہ کیا ہؤا بیٹا کیا بنا؟”،
“ماما ایڈمیشن ہوگیا میرا نام لسٹ میں موجود ہے”، لائبہ نے کہا۔ پیچھے بچوں کی اتنی آوازیں تھیں کہ لائبہ کو باقاعدہ چیخنا پڑ رہا تھا۔
“ماشاءاللّٰلہ اور سمیہ اسکا کیا بنا؟”،
“وہ بھی کلیر ہوگئ ہے”،
“زبردست بہت مبارک ہو تم دونوں کو سمیہ کو بھی مبارک باد دینا میں تمہارے ابّو کو فون پر بتا دوں”، خوشی ان کے لہجے میں عیاں تھی۔
“جی ماما میں بس فارم لیکر گھر پہنچتی ہوں “، لائبہ کے لہجے میں سکون صاف واضح تھا۔
“ہاں بیٹا دھیان سے آنا”، نگہت نے کہہ کر فون بند کیا اور تیزی سے رؤف صاحب کا نمبر ڈائیل کرنے لگیں۔
“گل فام گل فام!”، دوسری بار زور سے کہا تو نوکرانی جن بھوت کی طرح ظاہر ہوئی تھی۔
“جی سمیہ صاحبہ؟”،
“مام گھر پر نہیں ہیں؟”، سمیہ نے پوچھا۔
“نہیں ج۔۔۔ لگتا ہے آگئیں” وہ جواب نفی میں دے ہی رہی تھی کہ اچانک گاڑی کا ہارن بجا تھا۔ گل فام نے مزید کچھ نہ کہا بلکہ گیٹ کی طرف لپکی۔
سمیہ وہیں کھڑی تھی۔ دل میں حد درجے ناراضگی لیے لیکن خود کو کمپوز کیا تاکہ تاثرات نارمل رہیں۔
سحر گل فام کو اپنا لانگ کوٹ اور پرس تھماتے ہوئے ایک صوفے پر بیٹھیں اور پانی کا حکم دے دیا۔ گل فام تائیدی میں گردن ہلاتی وہاں سے گئ تھی۔
“ارے سمیہ وہاں کیا کھڑی ہو؟”، سمیہ کی موجودگی انہیں تب محسوس ہوئی جب سامنے لگے شیشے میں انہوں نے اپنے بالوں کو درست کرنے کے لیے دیکھا۔
“ایسے ہی آپ کا دن کیسا تھا؟”، سمیہ نے پوچھا۔ محبت سے عاری سادے لہجے میں پوچھا۔
“اٹ واس فینٹاسٹک! نائلہ کے گھر پارٹی تھی بہت زبردست انتظامات تھے۔ تمہارا پوچھ رہی تھی”، وہ کہتے کہتے رکیں۔ گل فام پانی کا گلاس لے آئی تھی۔
گل فام خالی گلاس لیکر چلی گئ تو وہ اٹھیں۔
سمیہ ہنوز وہیں کھڑی رہی نا قابلِ بیان تاثر لیے۔
“چلو میں سونے جا رہی ہوں بہت تھک گئ ہوں تم بھی آرام کرو”، وہ سمیہ کے کاندھے کو تھپتھپاتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئیں تو سمیہ نے خاموشی سے تائیدی میں گردن ہلا دی۔
“ارے میں تو بھول گئ تمہارا تو آج رزلٹ تھا، کیا ہؤا پھر؟”، سحر کو اچانک یاد آیا تو پلٹ کر پوچھا۔ سمیہ زخمی سا مسکرائی۔
“پاس ہوں میں”، کوئی پر جوشی نہ کوئی مسکراہٹ سادھے انداز میں کہہ دیا۔
“واؤ زبردست مبارک ہو! اب کیا پلان ہے؟”، سحر نے پوچھا۔
“بس کچھ نہیں آپ ریسٹ کریں تھک گئی ہیں”، بمشکل آنسو روک کر اس نے مسکرا کر کہا تھا۔
“ہاں میں بہت تھک گئ ہوں بٹ اینی ویز بہت مبارک ہو تمہیں۔ نائلہ کا بیٹا بھی وہیں ہے کوئی مدد چاہیے ہو تو بتانا وہ ہیلپ کر دے گی چلو شب خیر”، سحر کہہ کر سیڑھیاں چڑھ گئیں اور سمیہ کے آنکھ کے اندرونی کونے نم ہونے لگے۔
“ویسے آپی آپ کے تو اب مزے روز نئے نئے کپڑے پہنیں گی فضول سے یونیفارم سے تو چھٹکارا ملا آپکو۔ ماما میں بھی آگے پڑھوں گی بلکہ ایک منٹ اچھے اچھے کپڑے یونیورسٹی جانے پر ملیں گے یا شادی ہوگی تب زیادہ اچھے کپڑے ملیں گے؟”، سکینہ دونوں صورت حال کا موازنہ کرنے لگی تھی اور ساتھ بیٹھی لائبہ اور نگہت نے اسے اچھنبے سے دیکھا۔ جواب اس نے خود ہی دیا۔
“شادی پر زیادہ اچھے کپڑے ملتے ہیں ماما شادی ہی کروا دینا میری”، اس نے فر سے کہا اور نگہت نے ایک کاندھے پر لگائی وہ سی سی کرتی رہ گئ۔
“اپنی عمر کی باتیں کیا کرو کتنی بار سمجھایا ہے تمہیں”، لائبہ نے ڈانٹا۔
“اپنے سے بڑی عمر کی باتیں کرنے پر ٹیکس ہے کیا؟”، پھر نادانی۔
“سکینہ!”، نگہت اور لائبہ دونوں نے بیک وقت ٹوکا وہ ایک دم دبک گئ اسی افتاد میں لائبہ کا فون بجنے لگا۔
“سمیہ ہوگی فون دینا میرا”، لائبہ نے سکینہ سے کہا۔ اس نے فون دیا اور کال اٹھائی۔
“ہاں سمیہ کہو”، لائبہ نے کہا۔ پر سامنے کوئی جواب نہیں آیا۔
“سمیہ؟”، لائبہ نے پھر پوچھا۔ نگہت اور سکینہ بھی ساتھ بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں۔
“میں تمہاری طرف آ سکتی ہوں ابھی؟”، سمیہ کی آواز روندھے لہجے میں ابھری۔
“اب تک آئی کیوں نہیں؟ سکینہ ویٹ کر رہی ہے تمہارا کہہ رہی تھی سمیہ آپی نے ٹریٹ کا وعدہ کیا تھا”، لائبہ نے لہجہ نوٹس کیا پر نارمل انداز میں بات کی۔
“ہاں سمیہ آپی پیزا کا کہا تھا آپ نے”، سکینہ پیچھے سے چیخی۔
“اس سے کہو مووی لگا کر رکھے میں بس آ رہی ہوں پیزا کا آرڈر وہیں دوں گی”، سمیہ نے کہہ کر فون بند کیا۔