فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آنے والے دور کی جنگوں میں جدید ٹیکنالوجی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی، جن میں سائبر وارفیئر، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، الیکٹرانک جنگی نظام، ڈرونز اور لانگ رینج ہتھیار نمایاں ہوں گے۔
اتوار کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی ملٹی ڈومین آپریشنز پر مبنی ہوگی، جس کے پیشِ نظر پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے تحت پاکستان میں ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر قائم کیا گیا ہے، خلائی پروگرام کو وسعت دی جا رہی ہے جبکہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ بھی فعال کی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق جدید جنگی طیاروں کی شمولیت اور فتح میزائل سیریز اس دفاعی وژن کا حصہ ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حالیہ کامیابیوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کے ذریعے اہم امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے جنگ بندی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
تقریب سے خطاب میں انہوں نے افغانستان اور بھارت سے متعلق سکیورٹی خدشات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔