طلاق کی بڑھتی وجوہات — ایک سنجیدہ سماجی تجزیہ

 تحریر :رحمان بابا — سماجی کارکن، جنرل سیکرٹری، انجمن حقوق شہریاں ساہیوال

 

طلاق کو اللہ تعالیٰ نے “ابغض الحلال” یعنی سب سے ناپسندیدہ حلال عمل قرار دیا ہے۔ مگر آج ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ ساہیوال اور پنجاب کی عدالتوں میں روزانہ سینکڑوں خلع اور طلاق کے مقدمات دائر ہو رہے ہیں۔ یہ صرف ایک قانونی معاملہ نہیں، یہ ہمارے خاندانی نظام، ہماری اقدار اور ہماری نسلوں کا مسئلہ ہے۔

۱ — موبائل اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال

آج کا سب سے بڑا فتنہ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام نے گھروں میں بے اعتمادی کی دیوار کھڑی کر دی ہے۔ شوہر یا بیوی کسی اجنبی سے دوستی کریں، رات گئے موبائل پر مصروف رہیں تو شک، جھگڑا اور پھر علیحدگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے گھر کے اندر بیٹھ کر باہر کی دنیا میں دلچسپی پیدا کر دی ہے۔

۲ — معاشی دباؤ اور غربت

مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے گھروں کا سکون چھین لیا ہے۔ جب مرد کمانے سے قاصر ہو اور گھر کی ضروریات پوری نہ ہوں تو گھریلو جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف بعض خواتین کام کاج کی وجہ سے معاشی خود مختاری حاصل کر لیتی ہیں جس سے گھریلو توازن بگڑ جاتا ہے۔ خالی پیٹ ایمان کمزور ہوتا ہے اور خالی جیب رشتے کمزور کرتی ہے۔

۳ — ساس سسر اور سسرالی رشتوں کی مداخلت

ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام میں سسرال کی ضرورت سے زیادہ مداخلت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ نئی دلہن کو گھر میں سیٹ ہونے کا موقع دینے کی بجائے اس کا ہر قدم پرکھا جاتا ہے۔ ساس اور بہوؤں کے درمیان چپقلش، دیوریوں کی شرارتیں اور نندوں کی مداخلت — یہ سب مل کر میاں بیوی کے درمیان دیوار بن جاتی ہے۔ شوہر بیچارہ دو کشتیوں میں سوار ہو کر ڈوب جاتا ہے۔

۴ — غلط توقعات اور ناپختہ ذہنیت

ڈرامے، فلمیں اور سوشل میڈیا نے نوجوانوں میں ناقابل حصول توقعات پیدا کر دی ہیں۔ لڑکیاں ہیرو جیسا شوہر چاہتی ہیں، لڑکے پری جیسی بیوی چاہتے ہیں۔ اصل زندگی میں جب حقیقت سامنے آتی ہے تو مایوسی ہوتی ہے۔ شادی آزمائش ہے، خواب نہیں۔ صبر، برداشت اور قربانی کا جذبہ ختم ہو چکا ہے۔

۵ — گھریلو تشدد اور ظلم

گھریلو تشدد طلاق کی ایک بڑی وجہ ہے۔ بعض شوہر بیوی پر ہاتھ اٹھانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ گالم گلوچ، مار پیٹ اور جذباتی تشدد خاتون کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خلع لے کر آزادی حاصل کرے۔ اسی طرح بعض خواتین بھی شوہر کے ساتھ ناروا سلوک کرتی ہیں۔ گھر عبادت گاہ ہونا چاہیے، جنگ کا میدان نہیں۔

۶ — بے جا جہیز اور دولت کا لالچ

جہیز کا ناسور آج بھی ہمارے معاشرے میں زندہ ہے۔ شادی کے بعد جہیز میں کمی کا طعنہ، مزید مال کا مطالبہ اور پیسوں کی خاطر بیوی پر ظلم — یہ سب طلاق کا راستہ کھولتے ہیں۔ دوسری طرف لڑکی والے بھی بعض اوقات جہیز کی آڑ میں بوجھ ڈالتے ہیں جس سے ابتدائی ازدواجی زندگی مالی تناؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔

۷ — دینی تعلیم اور اخلاقی اقدار کا فقدان

دین سے دوری ہمارے گھروں کو تباہ کر رہی ہے۔ جب میاں بیوی نماز نہ پڑھیں، قرآن نہ سنیں، اللہ سے نہ ڈریں تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر طلاق کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “بہترین مرد وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر ہو۔” آج اس سنت کو بھلا دیا گیا ہے۔ اخلاقی تربیت کے بغیر کوئی گھر آباد نہیں رہ سکتا۔

۸ — منشیات اور برے دوستوں کا اثر

نشہ اور برے دوستوں کی صحبت نے ہزاروں گھر اجاڑ دیے ہیں۔ شراب، چرس، آئس اور دیگر نشوں کا عادی شوہر نہ گھر کا خیال رکھ سکتا ہے، نہ بچوں کا، نہ بیوی کا۔ ایسے میں خاتون کا علیحدگی مانگنا ایک فطری ردعمل ہے۔ منشیات کا یہ زہر پورے خاندان کو ہلاک کر دیتا ہے۔
حل اور تجاویز

گھروں میں نماز، قرآن اور سنت نبوی کو زندہ کریں۔ انجمن حقوق شہریاں جیسے ادارے فریقین کو بٹھا کر مصالحت کرائیں۔ موبائل کا غلط استعمال بند کریں۔ نئی شادی کو سانس لینے دیں۔ نوجوانوں کو ازدواجی زندگی کی تربیت دی جائے۔ گھریلو تشدد کے قوانین پر سختی سے عمل ہو۔ سادہ شادیوں کو فروغ دیں اور جہیز کے لالچ کا خاتمہ کریں۔

طلاق سے پہلے ہزار بار سوچیں، صبر کریں، معاف کریں۔ خاندان معاشرے کی اکائی ہے — جب گھر ٹوٹتا ہے تو معاشرہ ٹوٹتا ہے۔ انجمن حقوق شہریاں ساہیوال ہمیشہ خاندانوں کو جوڑنے کے لیے تیار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں میں محبت، رحمت اور سکون نازل فرمائے۔ آمین۔