پاکستان میں بھی بلیومون کا نظارہ کیا جا سکے گا ۔ ماہرین فلکیات

آسمان اور فلکیاتی مظاہر میں دلچسپی رکھنے والے افراد آج رات ایک منفرد اور کم دیکھے جانے والے فلکیاتی واقعے “بلیو مون” کا مشاہدہ کر سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق مئی 2026 کے دوران دوسری بار مکمل چاند نمودار ہو رہا ہے، جسے فلکیات میں “بلیو مون” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نسبتاً نادر واقعہ ہے جو عام طور پر ہر دو سے تین سال بعد پیش آتا ہے۔

فلکیاتی معلومات کے مطابق لاہور میں چاند آج شام تقریباً 7 بج کر 22 منٹ پر طلوع ہوگا اور رات بھر آسمان پر نمایاں رہے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شام 7:30 بجے سے 10 بجے تک مشرقی افق پر چاند کا منظر خاص طور پر دلکش دکھائی دے گا، جبکہ صاف موسم کی صورت میں رات بھر اس کا مشاہدہ ممکن ہوگا۔

ماہرین فلکیات وضاحت کرتے ہیں کہ “بلیو مون” کا تعلق چاند کے نیلے رنگ سے نہیں بلکہ ایک فلکیاتی اصطلاح سے ہے۔ جب کسی ایک کیلنڈر مہینے میں دو مرتبہ مکمل چاند نظر آئے تو دوسرے مکمل چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔ مئی 2026 میں پہلا مکمل چاند یکم مئی کو جبکہ دوسرا 31 مئی کو ظاہر ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مرتبہ بلیو مون “مائیکرو مون” بھی ہے، یعنی چاند اپنے مدار میں زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر موجود ہے۔ اسی وجہ سے یہ عام مکمل چاند کے مقابلے میں کچھ چھوٹا اور کم روشن محسوس ہو سکتا ہے۔

فلکیاتی حساب کے مطابق چاند اپنے مکمل مرحلے میں پاکستان کے وقت کے مطابق دوپہر کے اوقات میں پہنچ چکا تھا، تاہم اس وقت وہ مقامی افق پر دکھائی نہیں دے رہا تھا، اس لیے اس کا بہترین نظارہ رات کے وقت ممکن ہوگا۔

ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ روشنی کی آلودگی سے دور کھلے مقامات، پارکس یا بلند عمارتوں کی چھتوں سے مشرقی سمت میں اس دلکش فلکیاتی منظر کا مشاہدہ کریں تاکہ بلیو مون کی خوبصورتی کو بہتر انداز میں دیکھا جا سکے۔