مقبوضہ کشمیر کی ایک نوجوان لڑکی سے ملاقات کی خواہش ایک پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول کے پار لے گئی، جہاں اسے بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آزاد کشمیر کے علاقے مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے نوجوان ذیشان میر نے مبینہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی رہائشی ارم بانو سے ملاقات کے لیے ایل او سی عبور کی۔ تاہم یہ کوشش دونوں کے لیے مشکلات کا باعث بن گئی۔
اطلاعات کے مطابق ذیشان میر کو مقبوضہ کشمیر کے اُڑی سیکٹر میں گرفتار کیا گیا، جہاں اس کے پاس کوئی سفری یا قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ بعد ازاں تحقیقات کے دوران بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے تلاواڑی سلی کوٹ کی رہائشی ارم بانو کو بھی حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب پاکستان نے ذیشان میر کے معاملے پر سفارتی سطح پر پیش رفت کرتے ہوئے قونصلر رسائی کی درخواست کر دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بھارتی وزارتِ خارجہ کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قونصلر رسائی ملنے کے بعد پاکستانی حکام ذیشان میر کی شناخت اور حالات کی تصدیق کر سکیں گے، جس کے بعد اس کی رہائی کے لیے قانونی اور سفارتی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔