ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو کسی بھی وقت تباہ کرنے کا حکم دے سکتا ھوں ۔ صدر ٹرمپ کا اعلان

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں اور بعض اہم تنصیبات کو ممکنہ اہداف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری صورتحال میں بعض فوجی کارروائیوں کو پہلے روکا گیا تھا، تاہم اب بھی مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو ایران کے توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے احکامات دیے جا سکتے ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے پیش رفت سست روی کا شکار ہے اور تہران کو فیصلہ کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ ان کے بقول ایران کے پاس اب بھی موقع موجود ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور استحکام کے لیے مذاکراتی راستہ اختیار کرے اور کسی مفاہمتی معاہدے تک پہنچے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ واشنگٹن صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ اقدامات کا فیصلہ زمینی حقائق اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔