سرکاری ملازمین کا مطالبات کی منظوری کے لیے جاری اسلام آباد میں دھرنا ختم کر دیا

 

اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں جاری سرکاری ملازمین کا احتجاجی دھرنا حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد ختم کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری دھرنے کے شرکاء کے درمیان پہنچے اور ملازمین کو یقین دلایا کہ باقی ماندہ مطالبات پر بھی ترجیحی بنیادوں پر پیش رفت کی جائے گی، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت ہمیشہ عوامی مسائل کے حل اور ملازمین کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتی رہی ہے۔ انہوں نے سرکاری ملازمین کی پُرامن جدوجہد کو بھی سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر رانا ثناء اللہ اور دیگر متعلقہ حکام پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کے نمائندوں کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کیے۔

وفاقی وزیر کے مطابق سرکاری ملازمین کے تقریباً 90 فیصد مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں، جن میں ڈسپیرٹی الاؤنس، کنوینس الاؤنس اور بعض ایڈہاک الاؤنسز سے متعلق معاملات شامل ہیں، جبکہ باقی مسائل بھی جلد مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس موقع پر اگیگا کے صدر رحمان باجوہ نے حکومتی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مظاہرین نے دھرنا ختم کرتے ہوئے پُرامن طور پر منتشر ہونے کا فیصلہ کیا۔