تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بجٹ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ معیشت کی کمزوری اور امیروں کو دی گئی ٹیکس سہولتوں کے باعث موجودہ ٹیکس نظام کے تحت بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں رہا، جبکہ وفاقی اخراجات میں کمی کا کوئی واضح ارادہ بھی نظر نہیں آتا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بجٹ میں فرسٹ اور بزنس کلاس ہوائی ٹکٹوں پر ٹیکس میں دی گئی رعایت یا امیر طبقے کی بیرون ملک جائیدادوں پر ٹیکس ختم کرنا حکومتی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے، جس سے طاقتور طبقے کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو جو معمولی ریلیف دیا گیا ہے وہ صرف ماہانہ دو لاکھ روپے سے زائد آمدن والوں تک محدود ہے، جبکہ بڑا فائدہ ان افراد کو پہنچا ہے جن کی ماہانہ آمدن نو لاکھ سے پچاس لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق وفاقی حکومت اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے صوبوں کے وسائل پر انحصار بڑھا رہی ہے اور آئینی طور پر صوبوں کے حصے کی ٹیکس آمدن میں سے ایک کھرب روپے سے زائد رقم وفاقی خسارہ پورا کرنے کے لیے طلب کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم صوبائی ذمہ داری ہیں، لیکن پاکستان ان شعبوں پر کم ترین خرچ کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ سے ان کی گفتگو ہوئی ہے، جنہوں نے واضح مؤقف اپنایا ہے کہ عمران خان سے ملاقات اور ان کی ہدایت کے بغیر وفاقی حکومت کو کوئی مالی تعاون فراہم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بجٹ سے متعلق تمام فیصلے عمران خان سے مشاورت سے مشروط ہیں۔