کیا جیتے ہوئے لوگوں کو ہروانا آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟محمود خان اچکزئی

اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جانا چاہیے اور انتخابی نتائج میں مداخلت آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسان مختلف معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق صوبوں کے مالی حقوق کا تحفظ وفاق کی ذمہ داری ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں تو انہیں باہمی مشاورت اور سیاسی مکالمے کے ذریعے درست کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ملکی مفاد اور عوامی فلاح کے لیے ضروری ہے۔

اپوزیشن رہنما نے کہا کہ وہ قومی اداروں کے استحکام اور جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے ہر مثبت اقدام کی حمایت کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تمام سیاسی رہنماؤں کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت میں ہے، نہ کہ محاذ آرائی یا انتقامی سیاست میں۔

محمود خان اچکزئی نے تجویز دی کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ایسا سیاسی فریم ورک یا ضابطہ اخلاق طے کریں جس کے تحت انتخابی نتائج کا احترام کیا جائے اور جو جماعت عوامی مینڈیٹ حاصل کرے، اسے اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے۔