کراچی میں رواں سال ھونے والی سب سے بڑی ڈکیتی کا ڈراپ سین

کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی کا معمہ حل ہو گیا ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ واردات کا مرکزی کردار چیف کریو واجد تھا۔ پولیس نے اب تک تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن میں ایک ڈرائیور اور دو سیکیورٹی گارڈ شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق واٹر پمپ کے قریب کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران کے مطابق چیف کریو واجد نے پوری واردات کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس نے رقم کی منتقلی کے دوران کیش وین سے خود کو ڈبل کیبن گاڑی میں شفٹ کروایا، جبکہ اسی گاڑی میں موجود چار ملزمان اس سے مسلسل رابطے میں تھے۔ واردات کے بعد واجد نے کیش وین کو باہر سے لاک کر دیا۔

تفتیشی حکام کے مطابق مرکزی ملزم واجد اور اس کے ساتھی واردات کے بعد شہر سے فرار ہو گئے ہیں، تاہم گرفتار ہونے والے ڈرائیور اور دو گارڈز سے مزید تفتیش جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق جمعہ کی صبح طارق روڈ کے دفتر سے 20 تھیلوں میں رقم روانہ کی گئی تھی، تاہم ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑی کو واٹر پمپ کے قریب روکا گیا، جہاں یہ بڑی ڈکیتی پیش آئی۔ رقم کی مالیت کے لحاظ سے یہ واقعہ رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی قرار دیا جا رہا ہے۔