سلمان خان کی فلم کالا ھرن کو عدالت سے فوری ریلیف نا مل سکا

بالی وڈ کے معروف اداکار سلمان خان کو ان کی زندگی سے مشابہت رکھنے والی فلم “کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی” کے خلاف دائر مقدمے میں فوری قانونی ریلیف حاصل نہ ہو سکا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی کی ایک عدالت میں جسٹس مادھو جین کی سربراہی میں اس معاملے کی سماعت ہوئی، جہاں سلمان خان کی جانب سے ان کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ سندیپ سیٹھی نے مؤقف پیش کیا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ فلم ساز اداکار کی زندگی سے متاثر ہو کر ایک فلم بنا رہے ہیں، حالانکہ انہیں اس مقصد کے لیے سلمان خان کی اجازت حاصل نہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی فرد کی شخصیت، شہرت اور شناخت کو اس کی رضامندی کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

اداکار کی قانونی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ فلم میں سلمان خان کا نام براہِ راست استعمال نہیں کیا گیا، لیکن اس کی کہانی، کردار اور متعدد مناظر ان کی حقیقی زندگی سے واضح مماثلت رکھتے ہیں۔ وکلا کے مطابق فلم کے ذریعے تجارتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سندیپ سیٹھی نے فلم کے ٹریلر میں دکھائے گئے بعض مناظر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کردار کی شکل و شباہت اور انداز سلمان خان سے کافی حد تک ملتا ہے۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ کردار کو ایک مخصوص فیروزی رنگ کا بریسلٹ پہنے دکھایا گیا ہے جو اداکار کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ مزید برآں، کچھ مناظر میں ہتھیار کے استعمال کی عکاسی بھی کی گئی ہے، جو ان کے بقول گمراہ کن تاثر پیدا کرتی ہے۔

دوسری جانب فلم سازوں کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ انہیں مقدمے کی مکمل دستاویزات موصول نہیں ہوئیں بلکہ صرف جزوی ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ فلم سے متعلق تنازع کے بعد پروڈکشن ٹیم کو شدید ردعمل اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے، جس کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے سماعت کے دوران سلمان خان کی قانونی ٹیم کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ دستاویزات اور مقدمے کا مکمل ریکارڈ فلم سازوں کو فراہم کیا جائے۔ عدالت نے فوری حکمِ امتناع جاری کرنے سے گریز کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ سلمان خان نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ فلم میں 1998 کے کالے ہرن شکار کیس اور لارنس بشنوئی سے منسوب تنازع کو ان کی اجازت کے بغیر پیش کیا جا رہا ہے، جس پر انہیں اعتراض ہے۔