ایران امریکہ تکنیکی مذاکرات امریکی صدر کی دھمکیوں کے بعد تعطل کا شکار

سوئٹزرلینڈ کے معروف سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں پاکستان کی ثالثی کے تحت جاری امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں عارضی تعطل پیدا ہوگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فریقین کے درمیان بات چیت کا اگلا مرحلہ طے شدہ شیڈول کے مطابق شروع نہ ہو سکا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر ایرانی وفد نے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور امریکی نمائندوں کے سامنے اپنا باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔ بعد ازاں ایرانی وفد مذاکراتی اجلاس سے اٹھ کر چلا گیا، جس کے باعث مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہو سکا۔

اگرچہ بات چیت میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ پاکستان کی جانب سے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے بحال کرنے اور مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی وفد نے امریکی اور ایرانی نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق موجودہ صورتحال کو مذاکرات کے خاتمے کے بجائے ایک عارضی تعطل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔

ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی، خصوصاً لبنان کی صورتحال، مذاکراتی عمل پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر وہاں حالات میں بہتری نہیں آتی تو دیگر معاملات پر پیش رفت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات پر عمل نہ کیا تو واشنگٹن سخت ردعمل دے سکتا ہے۔

فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران نے کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی دکھائی یا آبنائے ہرمز کی بندش جیسا اقدام کیا تو امریکہ اس کا بھرپور جواب دے گا۔