پاکستان کے مشہور قوال امجد صابری کو بچھڑے 10 سال ھو گئے
اپنی دلنشین آواز اور روح پرور قوالیوں کے ذریعے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے والے معروف قوال امجد صابری کو دنیا سے رخصت ہوئے ایک دہائی گزر چکی ہے، مگر ان کا فن اور یادیں آج بھی مداحوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔
امجد صابری نے قوالی کی روایت کو نئی نسل تک منفرد انداز میں پہنچایا اور اپنے فن سے اس صنفِ موسیقی کو نئی زندگی بخشی۔ ان کی آواز میں پیش کیے جانے والے کلام سننے والوں پر گہرا روحانی اثر چھوڑتے تھے۔ جب وہ “تاجدارِ حرم” یا “بھر دو جھولی” جیسے مشہور کلام پیش کرتے تو محفل پر ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔
22 جون 2016 پاکستان کی موسیقی اور قوالی کی تاریخ کا ایک افسوسناک دن ثابت ہوا، جب رمضان المبارک کے دوران کراچی میں امجد صابری ایک قاتلانہ حملے کا نشانہ بن گئے۔
رپورٹس کے مطابق وہ کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں سفر کر رہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
امجد صابری اگرچہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی قوالیاں، نعتیں اور صوفیانہ کلام آج بھی عقیدت مندوں اور موسیقی سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کا فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی ورثہ رہے گا۔