وزیر اعظم کی آیون میں موجودگی میں سپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کو کھری کھری سنا دی
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق اور اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جبکہ وزیراعظم بھی ایوان میں موجود تھے۔
خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے محمود خان اچکزئی کے ان الزامات پر ردِعمل دیا جن میں ان پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان سے کوئی آئینی خلاف ورزی سرزد ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے، تاہم وہ اسمبلی کے فلور کو ایسے بیانات کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے جو قومی مفادات کے منافی ہوں۔
سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ایوان میں ایسی گفتگو کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو ریاستی اداروں یا قومی مفادات کے خلاف سمجھی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے مفاد، افواجِ پاکستان اور عدلیہ کے حوالے سے منفی بیانات کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ جب پارلیمنٹ میں طویل تقاریر کی جاتی رہیں تو اس وقت ایوان کی قانونی حیثیت پر اعتراض نہیں کیا گیا، جبکہ پارلیمانی کمیٹیوں اور دیگر فورمز میں عدم شرکت کا فیصلہ بھی بعض اراکین کا اپنا انتخاب تھا۔
انہوں نے اپوزیشن رہنما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قومی معاملات پر تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا چاہیے اور جہاں پاکستان کے مفاد کا سوال ہو وہاں اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔
گفتگو کے اختتام پر اسپیکر نے وزیراعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنے الفاظ پر معذرت بھی کی، تاہم انہوں نے قومی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے اپنے مؤقف کو دہرایا۔