انجمن مزارعین پنجاب کی جانب سے ساہیوال 90 نائن ایل اور 92 نائن ایل کےکسانوں اور مزارعین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مطالبات سامنے آ گئے۔

ساہیوال (پاک لینز).انجمن مزارعین پنجاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزارعین 1914 سے ان زمینوں کو آباد کر رہے ہیں اور ان کے حقوق آج تک مکمل طور پر تسلیم نہیں کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق مختلف ادوار میں مزارعین کو بے دخلی اور دیگر مسائل کا سامنا رہا ہے۔پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ 1998 میں انجمن مزارعین کے قیام کے بعد حقوق کے حصول کی تحریک شروع کی گئی، جبکہ 2010 میں پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج بھی کیا گیا۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ مزارعین کو زمینوں پر قانونی حقوق دیے جائیں اور بے دخلی کی پالیسی ختم کی جائے۔انجمن مزارعین پنجاب نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مزارعین کے لیے روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ تنظیم کے مطابق اوکاڑہ سمیت مختلف اضلاع میں ہزاروں خاندان ان زمینوں سے وابستہ ہیں اور ان کا روزگار انہی زرعی اراضیوں پر منحصر ہےپریس کانفرنس کے اختتام پر انجمن مزارعین پنجاب نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مزارعین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔