محرم الحرام 1448ھ مثالی امن، اتحاد اور مذہبی رواداری کے ساتھ اختتام پذیر، پاکستان امن کا گہوارہ بن کر دنیا کے سامنے ابھرا: ڈاکٹر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری

ساہیوال (پاک لینز) ۔تقریبِ شکرانہ میں افواجِ پاکستان، سلامتی کے اداروں، تمام صوبوں کی پولیس، وفاقی و صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ، علماء کرام، مشائخِ عظام، امن کمیٹیوں اور عوام کو زبردست خراجِ تحسین قومی پیغامِ امن کمیٹی ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان کی اپیل پر متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے زیر اہتمام جامع مسجد رحمانیہ، لیاقت چوک، کربلا روڈ، ساہیوال میں “تقریبِ شکرانہ برائے امن، اتحادِ امت و پیغامِ پاکستان” منعقد ہوئی، جس کی صدارت ڈاکٹر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، امیر متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان، ممبر قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان اور سربراہ اتحاد بین المسلمین و بین المذاھب امن کمیٹی نے کی۔
تقریب میں چوہدری محمد عثمان (رکن قومی اسمبلی)، ملک محمد ارشد (رکن صوبائی اسمبلی)، ملک محمد قاسم (رکن صوبائی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری پنجاب)، کیپٹن (ر) سمیع اللہ فاروق (ڈپٹی کمشنر ساہیوال) اور عثمان احمد ٹپو (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ساہیوال) نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔
جبکہ پیر حاجی احسان الحق ادریس، حاجی احسان الحق فریدی، قاری بشیر احمد، ملک محمد سعید سگھلا (صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ساہیوال)، رانا جاوید نثار (صدر پریس کلب ساہیوال)، حاجی عبداللطیف (صدر انجمن تاجران ساہیوال)، آغا رضا خان، ڈاکٹر سید اسامہ ضیاء بخاری سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام، مشائخِ عظام، ممبرانِ امن کمیٹی، وکلاء، صحافی، تاجر برادری، سماجی شخصیات اور معززینِ شہر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ محرم الحرام 1448ھ اور بالخصوص عاشورۂ محرم پورے پاکستان میں امن، مذہبی رواداری، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، حکومتِ پاکستان، قومی پیغامِ امن کمیٹی، تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پوری قوم کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مضبوط اور ذمہ دار اسلامی ریاست ہے۔ محرم الحرام کے دوران جس نظم و ضبط، برداشت، اخوت اور مذہبی رواداری کا مظاہرہ کیا گیا، اس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان امن کا گہوارہ ہے اور پاکستانی قوم اتحاد، استحکام اور بھائی چارے کی علمبردار ہے۔
ڈاکٹر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے افواجِ پاکستان، پاک فوج، پاکستان رینجرز، تمام سلامتی کے اداروں، انٹیلی جنس اداروں، تمام صوبوں کی پولیس، وفاقی و صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریسکیو 1122، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی، بہترین انتظامات اور شبانہ روز خدمات انجام دینے پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام، مشائخِ عظام، ائمہ و خطباء، ممبرانِ امن کمیٹی، میڈیا نمائندگان، صحافی برادری، تاجر تنظیموں، سماجی کارکنوں، رضاکاروں اور عوام الناس کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذمہ دارانہ کردار، صبر و تحمل اور باہمی تعاون کے باعث الحمدللہ عاشورۂ محرم امن و امان، مذہبی رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ “پیغامِ پاکستان” صرف ایک ضابطۂ اخلاق نہیں بلکہ امن، اعتدال، اتحادِ امت، احترامِ اہلِ بیتِ اطہارؓ و صحابۂ کرامؓ، آئین و قانون کی پاسداری اور استحکامِ پاکستان کا متفقہ قومی منشور ہے، جسے ملک کے ہر طبقے تک پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان آئندہ بھی افواجِ پاکستان، سلامتی کے اداروں، تمام صوبوں کی پولیس، وفاقی و صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، علماء کرام، مشائخِ عظام اور تمام مکاتبِ فکر کے قائدین کے ساتھ مل کر ملک میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور ہر قسم کے انتہاپسندانہ و متشددانہ رویوں کے خاتمے کے لیے اپنا بھرپور اور مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔
اس موقع پر مہمانانِ خصوصی چوہدری محمد عثمان (رکن قومی اسمبلی)، ملک محمد ارشد (رکن صوبائی اسمبلی)، ملک محمد قاسم (رکن صوبائی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری پنجاب)، کیپٹن (ر) سمیع اللہ فاروق (ڈپٹی کمشنر ساہیوال) اور عثمان احمد ٹیپو (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ساہیوال) نے اپنے خطابات میں کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام ریاستی اداروں، ضلعی انتظامیہ، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، علماء کرام، امن کمیٹیوں اور عوام کے مثالی تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اور انتظامیہ آئندہ بھی عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی عملداری، مذہبی آزادی، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی استحکام کے لیے تمام طبقات کے ساتھ مل کر اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔ مقررین نے اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ ساہیوال سمیت پورے پاکستان میں عاشورۂ محرم پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا، جو قومی اتحاد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی روشن مثال ہے۔مہمانانِ اعزاز پیر حاجی احسان الحق ادریس، حاجی احسان الحق فریدی، قاری بشیر احمد، ملک محمد سعید سگھلا (صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ساہیوال)، رانا جاوید نثار (صدر پریس کلب ساہیوال)، حاجی عبداللطیف (صدر انجمن تاجران ساہیوال)، آغا رضا خان، ڈاکٹر سید اسامہ ضیاء بخاری ، بشپ ابراہام ڈینئیل، شیخ محمد اشفاق اور دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ محرم الحرام ہمیں صبر، ایثار، برداشت، اخوت اور امت کے اتحاد کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اہلِ بیتِ اطہارؓ، صحابۂ کرامؓ اور ازواجِ مطہراتؓ کا احترام ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، اور امت کے اتحاد، باہمی احترام، اخلاقِ حسنہ اور دینی اعتدال کے ذریعے ہی معاشرے میں امن و سکون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے علماء، مشائخ، وکلاء، صحافیوں، تاجروں اور تمام طبقاتِ زندگی پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے معاشرے میں محبت، رواداری، خیرخواہی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں تاکہ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور اسلامی اخوت کا مضبوط مرکز بنا رہے تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی، خوشحالی، افواجِ پاکستان کی سربلندی، شہداء کے بلند درجات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حفاظت، امتِ مسلمہ کے اتحاد، فلسطین و کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی اور عالمِ اسلام میں امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں امن، اتحادِ امت، مذہبی رواداری، آئین و قانون کی پاسداری، بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی استحکام کے فروغ کے لیے تمام ریاستی اداروں، علماء کرام اور عوام کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ پاکستان امن، اخوت اور استحکام کا مضبوط اسلامی ملک بن کر مزید ترقی کرے۔