پاکستانی فری لانسرز کی ریکارڈ آمدنی سے دنیا حیران
پاکستانی فری لانسرز نے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران 1.6 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ ملک میں منتقل کیا ہے، جو آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبے میں اب تک کی نمایاں ترین کارکردگیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق فری لانسنگ کے شعبے میں مسلسل ترقی پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے اور مناسب حکومتی معاونت کے ذریعے مستقبل میں سالانہ 10 ارب ڈالر زرمبادلہ حاصل کرنے کا ہدف بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
فری لانسرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ابراہیم امین نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران فری لانسنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 2022 سے 2026 کے عرصے میں اس شعبے سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دور افتادہ اور کم وسائل والے علاقوں کے نوجوان بھی جدید ڈیجیٹل مہارتیں سیکھ کر عالمی مارکیٹ میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ بجلی اور انٹرنیٹ جیسے چیلنجز کے باوجود نوجوانوں کی بڑی تعداد آن لائن روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔
ابراہیم امین کے مطابق پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور اگر انہیں مؤثر تربیت، رہنمائی اور جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی فراہم کی جائے تو فری لانسنگ نہ صرف بے روزگاری میں کمی لا سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک مضبوط ستون ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی ایکسپورٹس اور فری لانسنگ کے فروغ سے پاکستان مستقبل میں عالمی آن لائن سروسز مارکیٹ میں مزید نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔