پیرا فورس میں اوئے توئے نکلو سامان اٹھاؤ کا مغرور کلچر نہیں چلے گا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے کی مجموعی کارکردگی، ڈیجیٹل نظام، قانونی امور اور آئندہ حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پیرا کی تمام کارروائیوں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ریکوزیشن کا نظام لازمی بنایا جائے۔ انہوں نے عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے “Ask PERA” پورٹل کو مزید مؤثر بنانے اور ادارے کی قیادت کو شہریوں سے براہِ راست رابطہ مضبوط کرنے کی بھی ہدایت کی۔
مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ پیرا فورس میں اختیارات کے ناجائز استعمال یا عوام کے ساتھ نامناسب رویے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت اور قانون کی پاسداری ہی ادارے کی اصل پہچان ہونی چاہیے، جبکہ ادارے کی ساکھ اور اعتماد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف سرکاری محکموں سے تعینات کیے گئے 351 ملازمین کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر واپس ان کے متعلقہ اداروں میں بھجوا دیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پیرا کا چالان سسٹم مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے اور تمام کارروائیوں کا ریکارڈ الیکٹرانک انداز میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔
بریفنگ کے مطابق پیرا فورس اب تک 62 ہزار سے زائد ڈیجیٹل ریکوزیشنز پر عملدرآمد کر چکی ہے جبکہ صوبے بھر میں 15 لاکھ سے زائد انسپکشنز کی جا چکی ہیں۔ کارروائیوں کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر ہزاروں دکانیں سیل کی گئیں اور تجاوزات کے خلاف مہم میں 21 ہزار کنال سے زائد سرکاری زمین واگزار کرائی گئی۔
حکام نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور تجاوزات کے خلاف اقدامات کے دوران تقریباً 1700 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ تمام کارروائیوں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ عدالتی محاذ پر پیرا نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ادارے کے خلاف دائر ہونے والی متعدد درخواستوں میں سے اکثریت کے فیصلے پیرا کے حق میں آئے جبکہ چالان مکمل کرنے کی شرح بھی انتہائی حوصلہ افزا رہی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ اینٹی انکروچمنٹ اور پرائس کنٹرول کے علاوہ ہر کارروائی کے لیے پیشگی ڈیجیٹل منظوری ضروری ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے مزاحمتی رویوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیشی افسران کے تبادلوں میں کسی قسم کی سفارش یا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پیرا فورس کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے کلر کہار میں جدید ٹریننگ اکیڈمی قائم کی جا رہی ہے جبکہ جون 2027 تک مستقل بھرتیوں کا عمل مکمل کرنے اور ادارے میں شفافیت کے فروغ کے لیے انٹرنل افیئرز یونٹ کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
مریم نواز شریف نے پیرا کی مجموعی کارکردگی کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارے نے مؤثر نتائج دیے ہیں، تاہم عوامی رابطے اور ادارے کی مثبت تشہیر کے شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔