سی سی ڈی چکوال کے 3 اہلکاروں پر مبینہ طور پر 14 لاکھ روپے بھتہ لینے کے الزام کی انکوائری آخری مرحلے میں داخل
سینئر صحافی محسن رضا خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اٹک کے ایک شہری سے مبینہ طور پر 14 لاکھ روپے وصول کرنے اور دو افراد کو غیر قانونی طور پر روکنے کے الزامات کے سلسلے میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) چکوال کے تین اہلکاروں کے خلاف محکمانہ انکوائری اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سی سی ڈی راولپنڈی ریجن کے افسر ایس ایس پی حسن جہانگیر وٹو نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ اہلکاروں کے خلاف انکوائری جاری ہے، جسے ایس پی افضال شاہ دیکھ رہے ہیں اور اس کی تکمیل آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کے دوران متعلقہ اہلکاروں کی حاضری معمول کے مطابق درج نہیں کی جا رہی۔ دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ شکایت کنندہ ناصر محمود اور متعلقہ اہلکاروں کے درمیان صلح ہو چکی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناصر محمود کو 14 لاکھ روپے واپس کر دیے گئے، جس کے بعد انہوں نے مزید قانونی کارروائی نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
شکایت کے مطابق مئی کے اوائل میں ناصر محمود کے ملازم گل زیب اور ڈرائیور امیر زیب مردان سے لاہور جا رہے تھے کہ کلر کہار کے قریب انہیں روک لیا گیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بعد ازاں ان افراد کی رہائی کے لیے رقم طلب کی گئی، جس کے بعد فریقین کے درمیان مبینہ طور پر مالی معاملہ طے پایا۔
ناصر محمود کا کہنا تھا کہ رقم کی ادائیگی کے بعد دونوں افراد اور گاڑی واپس مل گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے میں سی سی ڈی چکوال کے بعض اہلکار ملوث تھے۔
شکایت موصول ہونے پر ضلعی پولیس حکام نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی انکوائری میں بعض الزامات کی تصدیق کے بعد مزید کارروائی پر غور کیا گیا، تاہم بعد میں معاملہ محکمانہ انکوائری کے لیے سی سی ڈی حکام کے سپرد کر دیا گیا۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ علاقے میں بعض عناصر پر مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں اور بھتہ خوری میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ عدالتی فیصلہ یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
شکایت کنندہ کا مؤقف ہے کہ جس گاڑی کو روکا گیا اس میں موجود سگریٹ قانونی طور پر تیار شدہ تھے اور ان پر متعلقہ صوبے کے قوانین کے مطابق ٹیکس ادا کیا جا چکا تھا، جبکہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔
محکمانہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ الزامات کس حد تک درست ہیں اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔