چین میں گونگا بہرا شخص 35 سال بعد اپنے خاندان سے جا ملا

چین میں 35 برس قبل بچپن میں اپنے خاندان سے بچھڑ جانے والا قوتِ سماعت اور گویائی سے محروم شخص بالآخر اپنے اصل گھرانے تک پہنچ گیا۔ اس جذباتی ملاپ کی خاص بات یہ رہی کہ اس کی بنیاد ایک موبائل ایپ کے چیٹ گروپ میں شیئر کیے گئے مختصر پیغام پر رکھی گئی۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبہ ہینان کے رہائشی لی ژے چنگ 1991 میں کم عمری کے دوران دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اتفاقاً ایک ٹرین میں سوار ہو گئے تھے۔ سفر کے دوران وہ سیٹ کے نیچے سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو خود کو ایک اجنبی شہر میں پایا۔ چونکہ وہ قوتِ سماعت اور گویائی سے محروم تھے، اس لیے نہ اپنی شناخت بیان کر سکے اور نہ ہی اپنے گھر کا پتہ بتا سکے، جس کے باعث خاندان سے ان کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

خاندان سے جدا ہونے کے بعد لی ژے چنگ نے جنوبی چین کے شہر شینزین میں ریلوے اسٹیشن کے اطراف طویل عرصہ گزارا۔ بعد میں ایک خاتون نے انہیں اپنی سرپرستی میں لے لیا، تعلیم دی، لکھنا پڑھنا سکھایا اور ان کی بھرپور دیکھ بھال کی۔ لی ژے چنگ آج بھی اس خاتون کو اپنی پہلی ماں کا درجہ دیتے ہیں۔

بعدازاں جب وہ خاتون ہانگ کانگ منتقل ہو گئیں تو ایک مقامی ریسٹورنٹ کے مالک ہانگ چنگ شیان نے ان کی کفالت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ انہوں نے نہ صرف رہائش اور روزگار فراہم کیا بلکہ ریسٹورنٹ بند ہونے کے بعد بھی ان کے لیے نئی ملازمت کا انتظام کیا۔ ہانگ چنگ شیان اور ان کی اہلیہ نے تقریباً تین دہائیوں تک انہیں اپنے بچوں کی طرح سنبھالے رکھا۔

دوسری طرف لی ژے چنگ نے اپنے حقیقی خاندان کی تلاش کبھی ترک نہیں کی۔ وہ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنی معلومات شیئر کرتے، بچپن کی دھندلی یادوں کی بنیاد پر مختلف علاقوں کا رخ کرتے اور متعلقہ اداروں سے بھی مدد لیتے رہے۔ ان کے سرپرست بھی اس جدوجہد میں برابر شریک رہے اور پولیس، اخبارات اور دیگر ذرائع کے ذریعے اہلِ خانہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔

برسوں کی یہ کوشش اس وقت کامیاب ہوئی جب لی ژے چنگ کے بڑے بھائی، جو خود بھی قوتِ سماعت اور گویائی سے محروم ہیں، نے ایک موبائل ایپ کے چیٹ گروپ میں ان کا پیغام دیکھا۔ پیغام میں نام لکھنے کا انداز بچپن کی ایک عادت سے مشابہ تھا، جس پر انہیں شبہ ہوا کہ شاید یہ ان کا برسوں سے لاپتا بھائی ہو۔

اس کے بعد دونوں بھائیوں نے متعدد بار آن لائن رابطہ کیا، پرانی یادوں اور خاندانی معلومات کا موازنہ کیا اور شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم نتائج آنے سے پہلے ہی لی ژے چنگ کے والد، بہن اور بھائی شینزین پہنچ گئے، جہاں 35 برس بعد ہونے والی ملاقات انتہائی جذباتی مناظر میں تبدیل ہو گئی۔

بعدازاں ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی کہ لی ژے چنگ واقعی اسی خاندان کے فرد ہیں، جس کی تلاش میں وہ گزشتہ پینتیس برس سے سرگرداں تھے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ امید، مستقل مزاجی اور جدید ٹیکنالوجی بعض اوقات برسوں پرانے بچھڑے رشتوں کو بھی دوبارہ ملا دیتی ہے۔