سی ٹی او لاہور کا حادثات کی روک تھام اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ پر ڈرائیور کا لائسنس معطل کرنے کا حکم

لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر سید عبدالرحیم شیرازی نے شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کی روک تھام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ لاپرواہ اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ڈرائیور جن کی غفلت یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے باعث معمولی یا جان لیوا حادثات پیش آئیں گے، ان کے ڈرائیونگ لائسنس قانون کے مطابق کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال تک معطل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر حادثہ مہلک نوعیت کا ہو تو متعلقہ ڈرائیور کا لائسنس صرف عدالت کے حکم پر ہی بحال کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے خبردار کیا کہ اگر کوئی شخص لائسنس معطل ہونے کے باوجود گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کے مطابق ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں نہ صرف قانون شکنی ہیں بلکہ قیمتی انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ ثابت ہوتی ہیں، اس لیے ایسی غفلت کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

سید عبدالرحیم شیرازی کا کہنا تھا کہ لاہور ٹریفک پولیس محفوظ سفر کی فراہمی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ٹریفک قوانین پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے تاکہ حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکے اور سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔

انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ ڈرائیونگ کے دوران مقررہ رفتار کی پابندی کریں، گاڑیوں کے درمیان محفوظ فاصلہ رکھیں اور ہر حال میں ٹریفک قوانین پر عمل کریں تاکہ خود بھی محفوظ رہیں اور دیگر شہریوں کی جان و مال کو بھی خطرے میں نہ ڈالیں۔

آخر میں چیف ٹریفک آفیسر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لاہور میں محفوظ ٹریفک نظام کے قیام، حادثات کی روک تھام اور قانون کی یکساں عملداری کے لیے آئندہ بھی سخت اور مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے، کیونکہ ذمہ دارانہ ڈرائیونگ ہی محفوظ معاشرے کی بنیاد ہے۔