زیادہ ملبہ ڈالنے سے ٹیوشن سینٹر کی چھت گری ، تحقیقاتی کمیٹی رپورٹ

سانحہ کاہنہ سے متعلق قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو ارسال کر دی ہے، جس میں حادثے کی وجوہات اور ذمہ داریوں کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمارت کی چھت پر ضرورت سے زیادہ مٹی ڈالنے کے باعث اس پر غیر معمولی بوجھ پڑا، جبکہ ٹی آر گارڈر سے بنی چھت پر بچوں کی موجودگی کے دوران یہ کام کرانا انتہائی غیر محتاط اقدام تھا۔ رپورٹ کے مطابق عمارت کا ڈھانچہ اضافی وزن برداشت نہ کر سکا، جس کے نتیجے میں چھت منہدم ہو گئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ ٹیچر ایک وقت میں 34 بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔ حادثے کے وقت ٹیچر سمیت تقریباً 20 بچے کمرے کے اندر موجود تھے۔ ابتدائی طبی معائنے کے مطابق زیادہ تر بچوں کی اموات سر پر شدید چوٹیں لگنے کی وجہ سے ہوئیں۔

تحقیقات کے مطابق اس افسوسناک حادثے میں 14 بچوں کی جان گئی جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کسی سرکاری ادارے کے اہلکار کی غفلت سامنے نہیں آئی۔

پولیس نے واقعے کے بعد مقدمہ درج کرتے ہوئے مکان کے مالک، اس کے بھائی اور دیگر ملزمان سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ رپورٹ میں ماہرینِ تعمیرات اور دیگر متعلقہ ماہرین کی آراء بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ آئندہ شہر بھر میں قائم تمام ٹیوشن سینٹرز کے لیے حفاظتی ضوابط (ایس او پیز) پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔