اسلام آباد ہائی کورٹ کا اسلام آباد میں زمینوں کی خریدوفروخت انتقال و رجسٹریشن سے متعلق بڑا فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں زمینوں کی خرید و فروخت، رجسٹریشن اور انتقال سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی کے علاقوں میں اراضی کی لین دین پر عائد پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جائیدادوں کی رجسٹریشن اور انتقال کے تمام معاملات متعلقہ قوانین کے مطابق انجام دیے جائیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی آڑ میں شہریوں کے بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جا سکتے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سی ڈی اے کے خط کی بنیاد پر زمینوں کی خرید و فروخت پر عمومی پابندی عائد کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں، لہٰذا ایسی پابندی مؤثر نہیں سمجھی جا سکتی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات قانون سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عدالت کے مطابق انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کی تشریح اپنی مرضی سے کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار وسیع کر دیا، حالانکہ وہ حکم صرف غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں تک محدود تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ریمارکس میں اس بات پر زور دیا کہ انتظامی ادارے عدالتی احکامات پر من و عن عمل کرنے کے پابند ہیں اور انہیں کسی عدالتی فیصلے کی اپنی تشریح کر کے اس کے دائرہ اختیار میں تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں