آبنائے ہرمز پر امریکا کی مداخلت کسی صورت برداشت نہیںمحمد باقر قالیباف

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں امریکا یا کسی بھی غیر علاقائی طاقت کی مداخلت کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا کرنے یا صورتحال کو خراب کرنے کی ہر کوشش کے نتائج کی ذمہ داری متعلقہ فریق پر عائد ہوگی۔ ان کے مطابق یہ آبی گزرگاہ غیر علاقائی افواج کی فوجی سرگرمیوں یا طاقت کے مظاہرے کے لیے نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری اس سے ملحق ساحلی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک جو اس علاقے میں فوجی نقل و حرکت یا موجودگی بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں اپنے اقدامات کے ممکنہ نتائج کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاملات طے کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کو شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔