بلوچستان میں فتنہ الخوارج نے 4 روز میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات میں کیے اور معصوم لوگوں پر حملہ اوور ھوئے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے دوران سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ صوبے میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں دہشت گردوں نے عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق زیارت میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے دوران پولیس نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں دہشت گردوں کا تعاقب کیا۔ ان کے مطابق کارروائیوں کے دوران بعض مقامات پر دہشت گردوں نے معصوم شہریوں، جن میں بچے بھی شامل تھے، کو یرغمال بنانے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے متعدد حملہ آوروں کو مار گرایا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خاران میں چھ جبکہ دالبندین میں آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ مختلف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 54 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات میں 42 قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہوا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے، جس کا مقصد پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مانگی ڈیم کے علاقے میں بھی سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ خضدار میں عوام کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے حملہ آور فورسز کی فوری کارروائی کے بعد فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کا بنیادی مقصد معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا اور صوبے کے امن کو نقصان پہنچانا تھا، تاہم عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون اور عزم نے ان کے منصوبے ناکام بنا دیے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے مکمل قیام اور باقی ماندہ دہشت گرد عناصر کے خاتمے تک انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔