فلم ستلج آن لائن پلیٹ فارم پر ریلیز ہوتے ہی ہٹا دی گئی
بھارت میں سکھ برادری سے متعلق تاریخی واقعات پر مبنی فلم ستلج ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق فلم کو آن لائن پلیٹ فارم پر ریلیز کیے جانے کے کچھ ہی عرصے بعد ہٹا دیا گیا، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فلم کی ریلیز کئی برسوں سے مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار رہی تھی۔ بعد ازاں اسے اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر پیش کیا گیا، تاہم دو روز بعد ہی اسے ہٹا دیا گیا۔ بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حکومتی دباؤ کے باعث کیا گیا، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
یہ فلم 1980 اور 1990 کی دہائی میں سکھ برادری سے متعلق پیش آنے والے واقعات سے متاثر ہو کر تیار کی گئی ہے۔ فلم میں اس دور کے مبینہ ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق سے متعلق موضوعات کو پیش کیا گیا ہے، جن پر مختلف حلقوں میں طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔
فلم کے مرکزی اداکار دلجیت دوسانجھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں لکھا کہ اس فلم کے پیغام کو روکا نہیں جا سکتا اور متعلقہ شخصیت کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔
واضح رہے کہ اس فلم کا ابتدائی عنوان پنجاب 95 تھا۔ اس کی عالمی ریلیز کا اعلان فروری 2025 میں کیا گیا تھا اور اس موقع پر ٹیزر بھی جاری کیا گیا، تاہم بعد میں نمائش دوبارہ مؤخر کر دی گئی۔
فلم کی کاسٹ میں دلجیت دوسانجھ کے علاوہ ارجن رامپال، سوویندر وِکی، جگجیت سندھو اور گیتیکا ودیا اوہلیان بھی اہم کرداروں میں شامل ہیں۔