آپریشن شعبان میں 24گھنٹے کے دوران مزید 17 خارجی جہنم واصل

بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 17 مبینہ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 5 جولائی سے مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 79 تک پہنچ گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر حملے کے بعد پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور بلوچستان پولیس نے مشترکہ طور پر آپریشن شعبان شروع کیا، جس میں زمینی اور فضائی دونوں سطحوں پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق صرف گزشتہ ایک روز میں 13 مزید مبینہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جس کے بعد اس آپریشن میں مارے جانے والوں کی تعداد 43 ہو گئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 6 اور 7 جولائی کو بھی مختلف کارروائیوں کے دوران 26 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق خضدار کے علاقے زہری میں پولیس اسٹیشن پر ہونے والے حملے کو بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔ فوج اور ایف سی کی جوابی کارروائی میں 8 مبینہ حملہ آور ہلاک ہوئے، جبکہ فضائی آپریشنز کے دوران مزید 5 سے 6 دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق 5 جولائی سے جاری مجموعی آپریشنز میں اب تک 79 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی عناصر کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن شعبان میں کامیابی پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل جغرافیائی علاقوں میں آپریشن کامیابی سے جاری رکھنا قابلِ تعریف ہے اور خضدار میں پولیس اسٹیشن پر حملہ ناکام بنانا بھی ایک اہم کامیابی ہے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور بلوچستان میں امن خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی سیکیورٹی فورسز، ایف سی اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زہری پولیس اسٹیشن پر حملہ بروقت جواب سے ناکام بنایا گیا اور حکومت ہر صورت میں بلوچستان میں ریاستی عملداری برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق دہشت گرد عناصر کے لیے صوبے میں کوئی محفوظ جگہ نہیں رہے گی اور ان کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔