متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے اور متبادل بحری تجارتی راستہ مضبوط بنانے کے لیے نئی بندرگاہ کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے اور متبادل بحری تجارتی راستہ مضبوط بنانے کے لیے نئی بندرگاہ کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اماراتی حکومت نے مشرقی ساحلی شہر فجیرہ میں ایک جدید کثیرالمقاصد بندرگاہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد دبئی کی بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے انحصار میں کمی لانا اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے متبادل راستہ فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کے تحت نئی بندرگاہ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ موجودہ پورٹ آف فجیرہ میں جدید کنٹینر ٹرمینل بھی شامل کیا جائے گا، تاکہ درآمدات اور برآمدات کی استعداد میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا اہم مقصد جبل علی پورٹ پر انحصار کم کرنا اور ایسا بحری مرکز تیار کرنا ہے جہاں سے تجارتی سامان کی نقل و حمل آبنائے ہرمز پر مکمل انحصار کے بغیر جاری رکھی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال نے متحدہ عرب امارات کو اپنی بحری تجارت اور معاشی تحفظ کے لیے متبادل بندرگاہی ڈھانچے کی منصوبہ بندی پر توجہ دینے پر مجبور کیا ہے۔