بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناقص پالیسیوں کی بدولت بھارت خواتین کے لیے غیر محفوظ ملک بن گیا، غیر مؤثر قانونی نظام کے باعث بھارت میں خواتین کیخلاف جرائم میں ہوشربا اضافہ

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناقص پالیسیوں کی بدولت بھارت خواتین کے لیے غیر محفوظ ملک بن گیا، غیر مؤثر قانونی نظام کے باعث بھارت میں خواتین کیخلاف جرائم میں ہوشربا اضافہ

بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافے پر عالمی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مؤثر حکومتی اقدامات اور مضبوط قانونی عملدرآمد کے فقدان نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2010 کے بعد بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ اوسطاً 80 سے زائد خواتین مختلف نوعیت کے جرائم کا نشانہ بنتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2024 کے دوران خواتین سے زیادتی کے 29 ہزار 536 مقدمات درج کیے گئے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کمزور قانونی عملدرآمد، عدالتی کارروائی میں تاخیر، پولیس کے غیر مؤثر رویے اور سماجی مسائل، خصوصاً ذات پات کے نظام، نے خواتین کے لیے انصاف کے حصول کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

سماجی کارکن رنجنا کماری کے مطابق جرائم کے مقدمات میں تاخیر اور کئی ملزمان کے سزا سے بچ نکلنے کی وجہ سے قانون کا خوف کمزور پڑ چکا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد اور امتیازی رویوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اور دیرپا حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔