لاہور کے مختلف نجی اسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز کو مقررہ وظیفہ اور مالی مراعات نہ ملنے کا معاملہ
لاہور کے مختلف نجی اسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز کو مقررہ وظیفہ اور مالی مراعات نہ ملنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر متعلقہ اداروں نے توجہ دینا شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق متعدد نجی اسپتالوں میں زیرِ تربیت ڈاکٹرز کو ماہانہ صرف 30 سے 40 ہزار روپے تک معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض ادارے معاہدوں میں زیادہ تنخواہ اور سہولیات درج کرتے ہیں، تاہم عملی طور پر اس سے کم ادائیگی کی جاتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق کئی نجی اسپتال ٹرینی ڈاکٹرز سے کم لاگت والے طبی عملے کے طور پر خدمات حاصل کر رہے ہیں، جس پر ڈاکٹرز کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کی شکایات موصول ہونے کے بعد پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔ کمیشن نے موصولہ شکایات مزید کارروائی کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کو بھی ارسال کر دی ہیں۔
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا کہنا ہے کہ مناسب وظیفہ اور مراعات نہ ملنے کی وجہ سے ٹرینی ڈاکٹرز پیشہ ورانہ اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے ان کی کارکردگی اور حوصلے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ متعلقہ قوانین کے مطابق تمام پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز کو مقررہ وظیفہ اور دیگر واجب مراعات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔