ہیڈ فون کا طویل وقت تک زیادہ والیوم پر استعمال سماعت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین
سماعت انسان کی بنیادی حسی صلاحیتوں میں شامل ہے اور اس کی حفاظت صحت مند زندگی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جب سماعت ایک مرتبہ مستقل طور پر متاثر ہو جائے تو اسے قدرتی طور پر مکمل بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، اسی لیے کم عمری سے ہی کانوں کی دیکھ بھال پر توجہ دینا ضروری ہے۔
امریکا کے کلیولینڈ کلینک سے وابستہ آڈیولوجسٹ ڈاکٹر ویلیری پاولووچ رف کے مطابق کان کے اندر موجود انتہائی باریک حسی خلیات، جنہیں “ہیئر سیلز” کہا جاتا ہے، اگر مسلسل تیز شور یا دیگر عوامل کی وجہ سے نقصان کا شکار ہو جائیں تو عموماً دوبارہ پیدا نہیں ہوتے، جس سے سماعت مستقل طور پر کمزور ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سماعت میں کمی اب صرف بزرگ افراد کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ نوجوان، نوعمر بچے اور کم عمر بچوں میں بھی اس کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
کان کے اندر موجود کوکلیا میں ہزاروں حساس خلیات موجود ہوتے ہیں جن پر نہایت باریک بال نما ساختیں ہوتی ہیں۔ آواز کی لہریں ان خلیات کو متحرک کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں برقی سگنلز دماغ تک پہنچتے ہیں اور انسان آواز کو محسوس کرتا ہے۔ اگر یہ نازک خلیات شدید یا مسلسل بلند آواز کے زیرِ اثر خراب ہو جائیں تو سماعت متاثر ہونے لگتی ہے۔
ماہرین کے مطابق میوزک کنسرٹس، اسٹیڈیمز اور دیگر شور والے مقامات پر آواز کی شدت اکثر محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، اور چند منٹ تک بھی ایسے ماحول میں رہنا کانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے عام فوم ایئر پلگ کی بجائے ہائی فِڈیلیٹی ایئر پلگ استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے، جو آواز کی شدت کم کرتے ہیں لیکن اس کا معیار برقرار رکھتے ہیں۔
ہیڈ فون کا طویل وقت تک زیادہ والیوم پر استعمال بھی سماعت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر ہیڈ فون استعمال کرتے ہوئے قریب موجود شخص کی عام آواز سنائی دے تو والیوم نسبتاً محفوظ ہے، لیکن اگر بلند آواز میں بات کرنے کے باوجود آواز سنائی نہ دے تو اس کا مطلب ہے کہ والیوم خطرناک حد تک زیادہ ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں 35 سال سے کم عمر تقریباً 1.35 ارب افراد ذاتی آڈیو ڈیوائسز کے مسلسل استعمال کے باعث قبل از وقت سماعتی مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں۔
اسی طرح گھاس کاٹنے والی مشین، لیف بلوور، برقی آری، ڈرل اور دیگر صنعتی یا برقی آلات بھی انتہائی بلند شور پیدا کرتے ہیں، اس لیے ان کے استعمال کے دوران حفاظتی ایئر پلگ یا شور کم کرنے والے ہیڈ فون پہننے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ تیز رفتار گاڑی میں کھڑکی کھول کر سفر کرنے سے ہوا کا شور بھی سماعت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ اس شور کو دبانے کے لیے گاڑی کا میوزک مزید بلند کرنا کانوں پر اضافی دباؤ پیدا کرتا ہے۔ موٹرسائیکل چلانے والوں کے لیے بھی مناسب حفاظتی ایئر پلگ استعمال کرنا مفید قرار دیا گیا ہے۔
اگرچہ شور سے بچاؤ ضروری ہے، تاہم ہر وقت ایئر پلگ یا روئی کانوں میں رکھنا بھی مناسب نہیں کیونکہ کان قدرتی طور پر خود کو صاف کرتے ہیں۔ مسلسل رکاوٹ ڈالنے سے میل اندر جمع ہو سکتا ہے، جس سے خارش، کان بند ہونے کا احساس، عارضی سماعتی کمی یا انفیکشن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ سماعت کو محفوظ رکھنے کے لیے غیر ضروری بلند آوازوں سے حتیٰ الامکان بچیں، ہیڈ فون معتدل آواز پر استعمال کریں، شور والے ماحول میں حفاظتی سامان ضرور پہنیں اور اگر سماعت میں کسی بھی قسم کی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔