اسلام آباد میں منعقدہ علمائے کرام اور مشائخ کے مشاورتی اجلاس میں ملکی سلامتی، قومی اتحاد اور شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔

اسلام آباد میں منعقدہ علمائے کرام اور مشائخ کے مشاورتی اجلاس میں ملکی سلامتی، قومی اتحاد اور شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بتایا کہ مختلف مذہبی رہنماؤں اور مشائخ کے ساتھ قومی امور، امن و استحکام اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ملک کی سلامتی، آئین کی پاسداری اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں شریک ممتاز علماء، مشائخ اور دینی شخصیات نے متفقہ طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے امن، خودمختاری، قومی وحدت اور ریاستی استحکام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔ شرکاء نے دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت اور ہر قسم کی تخریبی سرگرمیوں کے خلاف حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مسلح افواج اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

علمائے کرام نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ ملک کے دفاع، امن اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاک افواج اور سیکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسلام دہشت گردی، تشدد اور انتہاپسندی کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا۔

وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج ملک میں امن قائم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی مؤثر سفارت کاری نے عالمی سطح پر مثبت نتائج دیے، جبکہ ملکی قیادت کی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔

سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ حالیہ اجلاس کا بنیادی مقصد وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور قومی اتحاد و یکجہتی کے پیغام کو مزید مضبوط بنانا تھا۔