وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ کار متعارف آئندہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا جائزہ لے گی

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل اور خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق ڈیزل کی عالمی قیمت تقریباً 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ پٹرول کی قیمت بھی 89 ڈالر سے بڑھتے ہوئے تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے عوام پر اضافی مالی بوجھ کم رکھنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے تقریباً 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت مند طبقے کے لیے ہدفی سبسڈی کا سلسلہ اب بھی جاری رکھا گیا ہے۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین سات روزہ اوسط عالمی قیمت کو بنیاد بنا کر کیا جائے گا، جبکہ اوگرا روزانہ قیمتوں کا جائزہ لے کر ضروری ایڈجسٹمنٹ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں گی تو اس کا فائدہ براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے گا، جبکہ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت مرحلہ وار پٹرولیم شعبے کو زیادہ آزاد اور مسابقتی نظام کی طرف لے جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس شعبے میں اصلاحات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر تیل اور گیس کی تلاش بڑھانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اور تقریباً دو دہائیوں بعد ترکیہ کی ایک توانائی کمپنی اکتوبر میں سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے اپنا تحقیقی جہاز پاکستان بھیجے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ گردشی قرضے کے مسئلے کے حل کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے مشاورت جاری ہے، جبکہ ملکی ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کر کے خام تیل کی بہتر پراسیسنگ اور عوام کو عالمی معیار کے مطابق مناسب قیمت پر ایندھن فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

علی پرویز ملک نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کو ملکی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہوگا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں حالیہ اضافہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے، تاہم پاکستان سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کے خدشات پیدا ہوئے تو حکومت نے بروقت مختلف ممالک سے تیل کے کارگو منگوا کر ملکی ضروریات پوری کیں، جس کے باعث ملک میں ایندھن کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائے۔ ان کے مطابق عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ترقیاتی اخراجات میں ردوبدل کر کے صارفین کو ریلیف دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ قیمتوں کے جائزے سے شفافیت بڑھے گی اور عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر بروقت صارفین تک پہنچ سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ جہاں ممکن ہوا عوامی ریلیف کو ترجیح دی گئی۔

وزیر اطلاعات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو مستقبل میں برقی گاڑیوں اور الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے استعمال کی طرف بڑھنا ہوگا، جس کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزی یا بحران سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا اور کفایت شعاری کے ذریعے قومی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنانا ہے۔