بھارت میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر احتجاجی مظاہرے جاری
بھارت میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جہاں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 180 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ مبینہ پولیس کارروائی اور تشدد کے باوجود نوجوانوں کی تحریک جاری رہے گی، تاہم فی الحال پارلیمنٹ کی جانب دوبارہ مارچ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہونے والے ہزاروں نوجوانوں پر پولیس اور مبینہ طور پر سادہ لباس میں موجود افراد نے کارروائی کی۔ اس واقعے سے متعلق متعدد ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کارروائی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
احتجاج کرنے والی جماعت حکومت سے تعلیمی شعبے میں بنیادی اصلاحات نافذ کرنے اور وفاقی وزیرِ تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ادھر بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے حکومتی اقدامات پر تنقید کی ہے۔ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ طلبہ اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔