متعدد ممالک کا واٹس ایپ کے مجوزہ یوزرنیم فیچر پر سیکیورٹی خدشات کا اظہار

متعدد ممالک نے واٹس ایپ کے مجوزہ یوزرنیم فیچر پر سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے دہشت گردی، مالیاتی فراڈ اور سائبر جرائم کی تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق صومالیہ کی حکومت نے اس معاملے پر میٹا سے باضابطہ رابطہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فیچر متعارف کرانے سے قبل اس کے سیکیورٹی اثرات کے بارے میں واضح وضاحت فراہم کی جائے۔

صومالی وزیر برائے مواصلات و ٹیکنالوجی احمد عثمان دیری کا کہنا ہے کہ اگر صارفین فون نمبر ظاہر کیے بغیر صرف یوزرنیم کے ذریعے رابطہ کریں گے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کی شناخت اور سراغ رسانی مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صومالیہ کو گزشتہ دو دہائیوں سے القاعدہ سے وابستہ تنظیم الشباب کی سرگرمیوں کا سامنا ہے، جبکہ ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ موبائل منی سروسز پر انحصار کرتا ہے، اس لیے شناخت چھپانے والے یوزرنیم مالیاتی جرائم اور جعلسازی کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

وزیر کے مطابق اگر افراد گمنام یا فرضی یوزرنیم استعمال کریں تو دھوکا دہی، فراڈ اور شہریوں کو جعلی شناخت کے ذریعے نشانہ بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں الشباب واٹس ایپ کو بھتہ خوری، دھمکی آمیز پیغامات اور اپنی سرگرمیوں کی تشہیر کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ صومالی انٹیلی جنس ادارے نے 2024 میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے شدت پسندوں سے منسلک متعدد واٹس ایپ گروپس بند کیے اور ہزاروں مشتبہ فون نمبروں کی ڈیٹا سروس بھی معطل کر دی تھی۔

احمد عثمان دیری نے بتایا کہ حکومت اس معاملے پر میٹا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ دونوں فریق کسی قابلِ قبول حل تک پہنچ جائیں گے۔

دوسری جانب بھارت نے بھی اس مجوزہ فیچر پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق، جہاں واٹس ایپ کے کروڑوں صارفین موجود ہیں، فون نمبر چھپنے کی صورت میں سائبر مجرم جعلی یوزرنیم کے ذریعے لوگوں کو آسانی سے دھوکا دے سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت نے میٹا سے مطالبہ کیا ہے کہ خدشات دور ہونے تک اس فیچر کا اجرا مؤخر رکھا جائے۔

ادھر میٹا کا کہنا ہے کہ یوزرنیم فیچر ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا۔ کمپنی کے مطابق واٹس ایپ اکاؤنٹ بنانے اور استعمال کرنے کے لیے بدستور فون نمبر لازمی ہوگا، جبکہ نئے فیچر میں صارفین کو فراڈ اور جعلسازی سے محفوظ رکھنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مجوزہ فیچر نے ایک بار پھر صارفین کی پرائیویسی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن سے متعلق بحث کو نئی شدت دے دی ہے، اور امکان ہے کہ عالمی سطح پر اس کے اجرا سے قبل مختلف حکومتوں اور میٹا کے درمیان مزید مشاورت کی جائے گی۔