مچھروں کے خلاف جنگ میں بڑی پیشرفت . مائیکرو ڈرون تیار
امریکا کی ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ایک جدید مائیکرو ڈرون تیار کیا ہے، جو فضا میں اڑنے والے کیڑوں، خصوصاً مچھروں، کی شناخت کر کے انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اگر یہ نظام کامیابی سے عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو مچھروں پر قابو پانے کی لاگت موجودہ طریقوں کے مقابلے میں تقریباً سو گنا تک کم کی جا سکتی ہے۔
وائی کومبینیٹر کی معاونت سے قائم امریکی اسٹارٹ اپ ٹورنیول کے انجینیئر کئی ماہ سے اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ایسے چھوٹے خودکار ڈرون تیار کرنا ہے جو کیمیائی اسپرے یا دیگر مہنگے اور ماحول پر منفی اثرات ڈالنے والے طریقوں کے بجائے شہری علاقوں میں مچھروں کو براہِ راست تلاش کر کے ختم کریں۔
14 جولائی کو کمپنی کے شریک بانی الیکس توسان نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں مائیکرو ڈرون کو پہلی مرتبہ ایک اڑتے ہوئے کیڑے کا تعاقب کرتے اور اسے فضا ہی میں گراتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں ڈرون نے ایک پتنگے کو نشانہ بنایا، نہ کہ مچھر کو۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ابتدائی آزمائش محدود ماحول میں کی گئی، تاہم اسے مستقبل میں مچھروں کی درست شناخت اور ان کے مؤثر خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں ڈرون الٹراسونک لہریں خارج کرتا ہے، جبکہ متعدد مائیکروفون واپس آنے والی آوازوں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ انجینیئرز کے مطابق مچھروں کے پروں کی حرکت ایک مخصوص ڈوپلر سگنل پیدا کرتی ہے، جس کی بنیاد پر ڈرون انہیں دیگر کیڑوں سے الگ شناخت کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔
کمپنی کے بانی الیکس توسان اور کلووس پیڈالو کا کہنا ہے کہ ان کا طویل مدتی منصوبہ ایسے مائیکرو ڈرونز کے غول تیار کرنا ہے جو بڑے شہری علاقوں میں مچھروں کی آبادی کو مؤثر انداز میں کم کر سکیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیابی سے عملی استعمال کے قابل ثابت ہوتی ہے تو ڈینگی، ملیریا اور مچھروں سے منتقل ہونے والی دیگر بیماریوں کے خلاف عالمی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس کے وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے مزید تجربات، تحقیق اور حفاظتی جائزے ناگزیر ہوں گے۔