ایران میں عسکری کارروائیاں مسلسل تیرہویں رات بھی جاری. سینٹکام
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران میں اس کی عسکری کارروائیاں مسلسل تیرہویں رات بھی جاری رہیں، جن میں مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سینٹکام کے بیان کے مطابق حملوں کے دوران ایرانی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، مواصلاتی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق مقامات کو ہدف بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو درپیش ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے۔
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی معاونت کے تحت تجارتی جہاز معمول کے مطابق اس اہم سمندری راستے سے گزر رہے ہیں۔
جمعہ کی صبح ایران کے مختلف علاقوں سے دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ متاثرہ علاقوں میں بندر عباس، اہواز، امیدیہ، جاسک، قشم، اندیمشک، خرم آباد، خنداب، بروجرد، فیروزآباد، تفت اور نائین شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
ادھر جنوبی ایرانی شہر اہواز کے حکام نے بتایا کہ امریکی کارروائیوں میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
اس سے قبل ایران کی وزارتِ صحت کے اطلاعاتی مرکز کے سربراہ حسین کرمان پور نے بتایا تھا کہ امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سے ملک بھر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 55 جبکہ زخمیوں کی تعداد 629 تک پہنچ چکی ہے۔