لندن میں سعودی شہزادے کی موت کی تحقیقات، انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات
لندن کے علاقے کنسنگٹن میں واقع ایک لگژری ہوٹل میں سعودی شاہی خاندان کے رکن شہزادہ عبداللہ بن فہد بن عبداللہ بن عبدالعزیز بن جلوی آل سعود کی وفات سے متعلق جاری انکوائری میں ان کی موت کی ممکنہ وجہ سامنے آ گئی ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونر کورٹ کو بتایا گیا کہ 29 سالہ شہزادے کے خون میں الکوحل کی مقدار برطانیہ میں مقررہ قانونی حد سے تقریباً تین گنا زیادہ تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے جسم میں جی ایچ بی (GHB) نامی منشیات اور اینٹی اینزائٹی دوا زینیکس (Xanax) کے اثرات بھی موجود تھے، جن کے امتزاج سے دل کا دورہ پڑنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق شہزادہ گزشتہ سال 25 نومبر کو کنسنگٹن کے ایک معروف ہوٹل کے باتھ روم میں بے ہوش حالت میں پائے گئے تھے۔ ہوٹل عملے کی اطلاع پر طبی امدادی ٹیم موقع پر پہنچی، تاہم انہیں بچایا نہ جا سکا اور ان کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ وفات سے چند ماہ قبل شہزادے نے برطانیہ کے ایک نجی بحالی مرکز میں الکوحل، بینزوڈیازیپائنز اور پری گیبالن کے استعمال سے نجات کے لیے علاج کروایا تھا۔ معالج ڈاکٹر کے تحریری بیان کے مطابق انہوں نے علاج کے دوران مکمل تعاون کیا اور ڈی ٹاکس کا مرحلہ بغیر کسی نمایاں جسمانی پیچیدگی کے مکمل کیا۔
ڈاکٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ شہزادہ خوش اخلاق، ملنسار اور دوسروں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھنے والے شخص تھے۔ اگرچہ علاج کے آغاز پر ان میں بے چینی اور اداسی کی علامات موجود تھیں، تاہم علاج مکمل ہونے کے بعد ان کی طبی حالت کو اطمینان بخش قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں انہوں نے ایک اور بحالی مرکز میں بھی علاج کا مرحلہ مکمل کیا اور صحت میں بہتری کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کسی سنگین یا دائمی بیماری کے شواہد نہیں ملے، جبکہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ میں انہیں آخری بار ہوٹل سے باہر سگریٹ نوشی کے لیے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ برطانوی حکام کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر خودکشی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔