ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے دبئی کے شہزادے کا روپ دھار کر خاتون سے لاکھوں کی آن لائن دھوکہ دہی
مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک جعلساز نے خود کو دبئی کے ولی عہد ظاہر کیا اور محبت کے نام پر ایک خاتون کو مالی فراڈ کا نشانہ بنا دیا۔
متاثرہ خاتون، جس نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی درخواست کی، کے مطابق اس کی ملاقات ایک ڈیٹنگ پلیٹ فارم پر ایسے شخص سے ہوئی جو خود کو دبئی کے شہزادہ حمدان بتاتا تھا۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان واٹس ایپ پر مسلسل رابطہ رہا، جہاں وہ محبت بھرے پیغامات بھیجنے کے ساتھ ویڈیو کالز بھی کرتا تھا۔
خاتون نے بتایا کہ ویڈیو کالز میں نظر آنے والا شخص بالکل حقیقی محسوس ہوتا تھا اور اس کے چہرے کی حرکات آواز سے مطابقت رکھتی تھیں، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ جدید ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال تھا۔ ابتدا میں انہیں کسی قسم کے فراڈ کا شبہ نہیں ہوا اور وہ اس شخص پر مکمل اعتماد کر بیٹھی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نے شادی کے کاغذات تیار کروانے اور دبئی میں ملازمت دلانے کے لیے مبینہ ’’رائل ممبرشپ کارڈ‘‘ جاری کرنے کا بہانہ بنا کر خاتون سے ایک لاکھ فلپائنی پیسو وصول کیے۔
بعد ازاں جعلساز نے ہوٹل میں ملاقات کا وعدہ کرتے ہوئے بکنگ کے اخراجات کے نام پر مزید 60 ہزار فلپائنی پیسو طلب کیے، جس پر خاتون کو شک ہوا۔ مزید معلومات حاصل کرنے پر معلوم ہوا کہ اس سے رابطے کے لیے استعمال ہونے والا فیس بک اکاؤنٹ نائیجیریا سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ حقیقت سامنے آنے پر خاتون نے فوری طور پر تمام رابطے ختم کر دیے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ واردات ایک بڑے آن لائن فراڈ نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس میں مجرم دبئی کے ولی عہد کی تصاویر، شاعری اور سوشل میڈیا مواد استعمال کرکے لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جعلی فیس بک گروپس، واٹس ایپ اور ٹیلیگرام اکاؤنٹس بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس بڑھتے ہوئے فراڈ کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر “Do Not Fall for Fake Prince” کے نام سے مہم چلائی جا رہی ہے، جبکہ “Stop Fazza Scam” کے عنوان سے ایک آن لائن درخواست کے ذریعے دبئی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
گلوبل اینٹی اسکیم الائنس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں آن لائن فراڈ، بالخصوص رومانس اسکیمز، کے باعث صارفین کو 442 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔