پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تازہ رپورٹ جاری کر دی
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون سیزن کے دوران بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مختلف حادثات کے نتیجے میں اب تک 29 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 203 شہری زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اموات خستہ حال اور کچے مکانات کے منہدم ہونے، آسمانی بجلی گرنے اور بجلی کا کرنٹ لگنے جیسے واقعات کے باعث ہوئیں۔ ادارے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث 52 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ 6 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ ادارے نے بارشوں کے تیسرے مرحلے کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے کہا کہ آئندہ دنوں میں شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی و برساتی علاقوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ برقرار ہے، اس لیے تمام متعلقہ محکمے پیشگی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق زخمی افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ حکومت کی پالیسی کے تحت جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو 10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک مالی امداد دی جا رہی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے ڈپٹی کمشنرز کو دریاؤں، نہروں اور برساتی ندی نالوں کے اطراف دفعہ 144 پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
ادارے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران بوسیدہ، کچے اور غیر محفوظ عمارتوں میں قیام سے گریز کریں، کیونکہ حالیہ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان کمزور چھتوں اور خستہ حال عمارتوں کے گرنے کے باعث پیش آیا۔