افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری ایک مسلح حملے میں ہلاک
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشان کی سکیورٹی کمان کے ترجمان احسان اللہ کامکار نے بتایا کہ یہ واقعہ منگل کے روز ضلع بہارک میں پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے ذبیح اللہ امیری کو نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران ان کے ایک محافظ کو بھی معمولی زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
طالبان حکومت کی مقامی پولیس کے ترجمان کے مطابق ذبیح اللہ امیری صبح اپنے دفتر جاتے ہوئے بہارک اور فیض آباد کو ملانے والی شاہراہ پر حملے کا شکار ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ محافظوں کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا، جبکہ دوسرے مشتبہ شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، جسے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
بدخشان کے مقامی حکام نے بتایا کہ حملے کے محرکات فی الحال واضح نہیں ہو سکے اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
تاحال کسی تنظیم یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ پولیس نے بھی حملہ آوروں کے ممکنہ مقاصد یا ان کے کسی مخالف مسلح گروہ سے تعلق کے بارے میں کوئی حتمی معلومات جاری نہیں کیں۔
ذبیح اللہ امیری کو طالبان حکومت کی نمایاں میڈیا شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کی سربراہی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
یاد رہے کہ بدخشان ماضی میں بھی سکیورٹی خدشات اور مسلح جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔ طالبان مخالف گروہ افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے صوبے میں اس کے جنگجوؤں اور طالبان فورسز کے درمیان متعدد جھڑپیں جاری ہیں۔