عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مگر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگے
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پاکستان میں عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملا، بلکہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔
تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 63 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 1 روپے 55 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 388 روپے 38 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5 ڈالر فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم پاکستان میں اسی عرصے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 65 روپے سے زائد جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 26 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔
حکومت کے یومیہ قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت 17 جولائی کو ہائی اسپیڈ ڈیزل 323 روپے 30 پیسے فی لیٹر تھا، جو مسلسل اضافے کے بعد 388 روپے 38 پیسے تک پہنچ گیا۔ اسی مدت میں پیٹرول کی قیمت 310 روپے 71 پیسے سے بڑھ کر 335 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہو گئی، جبکہ اس دوران صارفین کو صرف 1 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا محدود ریلیف دیا گیا۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر تقریباً 83 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 82.49 ڈالر سے گر کر 78.51 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔
اسی عرصے میں عالمی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، تاہم مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار رہا۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ لیوی، 8 روپے 64 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن، 7 روپے 87 پیسے ڈیلرز کا مارجن اور 15 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے 82 پیسے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 8 روپے 64 پیسے آئل کمپنیوں کا مارجن، 5 روپے فریٹ مارجن اور 15 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی لاگو ہے۔