بعض ڈرامہ نگار اسکرپٹ لکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہے ہیں.سید محمد احمد کا انکشاف

پاکستان کے معروف اداکار، مصنف اور ڈرامہ نگار سید محمد احمد نے انکشاف کیا ہے کہ مقامی ڈرامہ انڈسٹری میں کچھ لکھاری اسکرپٹ تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے مدد لے رہے ہیں، جبکہ بعض پروڈیوسرز اپنی مرضی کے مطابق اسکرپٹس میں تبدیلیاں کر کے مصنفین کی تخلیقی آزادی کو محدود کر دیتے ہیں۔

ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سید محمد احمد نے کہا کہ پاکستان میں باصلاحیت ڈرامہ نگاروں کی کمی نہیں، لیکن اکثر پروڈیوسرز ناظرین کی توجہ، ریٹنگز اور مقبولیت کے حصول کے لیے اصل اسکرپٹ میں تبدیلیاں کر دیتے ہیں، جس سے کہانی کا بنیادی تصور متاثر ہوتا ہے۔

انہوں نے اپنی ایک ذاتی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ایک ڈرامے کی 17 اقساط تحریر ہو چکی تھیں، مگر بعد میں انہیں ہدایت دی گئی کہ 11ویں قسط کے بعد کا تمام مواد تبدیل یا حذف کر دیا جائے۔

سید محمد احمد کا کہنا تھا کہ اسکرپٹ رائٹرز کو ہمیشہ اپنی تحریروں پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی بعض اوقات پروڈیوسرز کو ضروری تبدیلیوں کی اجازت دے دیتے تھے، کیونکہ اگر متعدد وضاحتوں کے باوجود ان کا مؤقف سمجھ میں نہ آئے تو اسکرپٹ میں ردوبدل ناگزیر ہو جاتا تھا۔

مصنف نے مزید دعویٰ کیا کہ آج کل کئی افراد مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈرامے تحریر کر رہے ہیں، جس کے باعث مکالموں میں مقامی زبان، ثقافتی رنگ اور معاشرتی حقیقت کی جھلک کم دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق معیاری اور مؤثر ڈرامہ لکھنے میں تقریباً 10 سے 11 ماہ درکار ہوتے ہیں، اس لیے ایک ہی وقت میں متعدد مکمل اسکرپٹس تیار کرنا ایک انسان کے لیے آسان کام نہیں۔