لاہور کے ویلنشیا ٹاؤن میں خاتون اور تین بچوں کی ہلاکت، تحقیقات میں نئی پیشرفت
لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں خاتون اور ان کے تین بچوں کی ہلاکت کے کیس میں تحقیقات کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مبینہ طور پر زہریلا کیمیکل فراہم کرنے والے دو دکانداروں اور ڈیلیوری رائیڈر کو تحویل میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے بیرونِ ملک مقیم ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جو پاکستان میں کیمیکل کی فروخت سے وابستہ تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر زہریلا مادہ امریکا بھجوانے کی درخواست کی، تاہم متعلقہ شخص نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق بعد ازاں خاتون نے چونگی امرسدھو کے ایک دکاندار سے مبینہ طور پر زہر خریدا اور اس کی ادائیگی کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار روپے ادا کیے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دکاندار نے یہ کیمیکل اکبری منڈی سے تقریباً 6 ہزار روپے میں حاصل کیا تھا۔
پولیس کے مطابق خاتون نے پاکستان واپسی کے بعد زہریلا مادہ اپنے ایک جاننے والے کے گھر منگوایا، جہاں سے ایک ڈیلیوری رائیڈر نے وقوعے سے ایک روز قبل اسے ان کی رہائش گاہ تک پہنچایا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران خاتون کے موبائل فون سے مبینہ طور پر خودکشی اور اہلِ خانہ کو نقصان پہنچانے سے متعلق انٹرنیٹ سرچز بھی سامنے آئی ہیں۔ پولیس نے واقعے کے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے چونگی امرسدھو اور اکبری منڈی سے متعلق دکانداروں کے علاوہ ڈیلیوری رائیڈر کو بھی حراست میں لے لیا ہے، جبکہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔