بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے بعض نتائج پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے بعض نتائج پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مظفرآباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت چوہدری یاسین کے حلقے کے نتائج کو قبول نہیں کرتی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تقریباً 30 پولنگ اسٹیشنز پر مبینہ بے ضابطگیوں اور بیلٹ پیپرز پر غیرقانونی مہر لگانے کے ویڈیو شواہد موجود ہیں، جبکہ ان پولنگ اسٹیشنز پر غیرمعمولی طور پر تقریباً 90 فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حلقے کے متنازع پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سیاسی مقابلے میں شکست کو قبول کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے بقول متنازع یا مبینہ طور پر بے ضابطگیوں پر مبنی نتائج کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق تمام الزامات کی غیرجانبدارانہ جانچ کے لیے سچ اور مفاہمت کمیشن قائم کیا جانا چاہیے تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کشمیری عوام کے ووٹ کے تحفظ کے لیے قانونی اور جمہوری طریقے سے جدوجہد جاری رکھے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کے لیے آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کریں گے اور عوامی حمایت کے ذریعے ان کے مسائل کے حل کی کوشش کریں گے۔