ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کسی قسم کے براہِ راست مذاکرات جاری نہیں ہیں،اسماعیل بقائی

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کسی قسم کے براہِ راست مذاکرات جاری نہیں ہیں، تاہم خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔

تہران میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ صرف عمان کے ساتھ بحری راستے پر اتفاق رائے سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق جب تک امریکی پابندیاں اور ناکہ بندی برقرار رہیں گی، موجودہ صورتحال میں نمایاں تبدیلی کا امکان نہیں۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی عرب کے اپنے ہم منصب سے بھی رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے تمام ارکان اس وقت ملک میں موجود ہیں، جبکہ خطے کے ممالک کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے لیے کی جانے والی کوششیں حوصلہ افزا ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے لیے زیرِ غور نئے بحری راستے میں آمد و رفت کے لیے الگ الگ راستے اور پوائنٹس تجویز کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال ماضی جیسی ہونے کا امکان نہیں۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق جاری مذاکرات میں امریکا شامل نہیں ہے اور اس حوالے سے صرف عمان کے ساتھ عارضی محفوظ بحری راستے کے قیام پر بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ امریکا کی موجودگی ہے اور کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت ہی دشمن کو روکنے کی مؤثر قوت ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق فی الحال نہ ایران کسی سفارتی وفد کو بیرونِ ملک بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی امریکا سے کوئی وفد تہران آ رہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو ایران سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے بقول یمن کا بحران صرف مذاکرات اور سیاسی حل کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ ان کے مطابق خطے میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش عمان کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے نہیں ہے۔