موجودہ پاکستانی حکومت ایران اور امریکا کے امن مذاکرات میں ثالث کا کردار بنیادی طور پر عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو “صاف” اور “نکھارنے” کے لیے ادا کر رہی ہے۔

سلیمان عیسیٰ خان (سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے) نے اپریل 2026 میں ITV نیوز کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران یہ مخصوص بیانات دیے۔

ان کے بیان کے اہم نکات:

تصویر بہتر بنانے کی کوشش:
سلیمان نے کہا کہ موجودہ پاکستانی حکومت ایران اور امریکا کے امن مذاکرات میں ثالث کا کردار بنیادی طور پر عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو “صاف” اور “نکھارنے” کے لیے ادا کر رہی ہے۔

عمران خان کا تعاون:
انہوں نے بتایا کہ ان کے والد عمران خان نے جیل میں ہونے کے باوجود اپنی جماعت کو اسلام آباد میں احتجاج مؤخر کرنے کی ہدایت دی، تاکہ امن مذاکرات متاثر نہ ہوں۔ ان کے مطابق عمران خان نے اپنے سیاسی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی۔

حکمتِ عملی کے تحت توجہ ہٹانا:
سلیمان کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کو ایک “امن کے ضامن” کے طور پر دیکھ رہی ہے، تاہم حکومت اس سفارتی کامیابی کو ملک کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔


وضاحت (Disclaimer):

یہ پوسٹ ایک AI سے تیار کردہ پس منظر تصویر پر مشتمل ہے جو سلیمان عیسیٰ خان کے ITV برطانوی میڈیا پر دیے گئے بیان یا تصور کو نمایاں کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ تصویر صرف نمائشی ہے اور کسی حقیقی یا تصدیق شدہ واقعے کی عکاسی نہیں کرتی۔